سورة لقمان - آیت 1

لم

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

الۤم۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: (آیت1سے5) سورۃ الرّوم کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مگر قرآن کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔ ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اے رسول (ﷺ) ! اس پر صبر کیجیے کہ آپ کے مخالف آپ میں ہلکا پن پیدانہ کردیں۔ سورۃ لقمان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کاسرچشمہ بنایا ہے گویا کہ یہی قرآن کچھ لوگوں کی گمراہی کاسبب بن رہا ہے اور کچھ کے لیے باعث ہدایت ثابت ہورہا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ یہی کامیاب ہونگے۔ الف، لام، میم حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں عرض ہوچکا ہے کہ ان کا معنٰی نبی (ﷺ) سے ثابت نہیں لہٰذا انہیں اسی طرح ہی پڑھنا چاہیے۔ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں جو نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ ایسے لوگ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہیں آخرت کے قائم ہونے پر پورا یقین ہے کہ یہ برپا ہو کر رہے گی اور اس میں نیکی کی جزا اور بدی کی سزا دی جائے گی۔ یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید کے بے شمار اوصاف جمیلہ کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں مرکزی اور بنیادی وصف دو ہیں 1 ۔قرآن مجید پڑھنے، اس پر غور کرنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے سے انسان اپنے رب کی رحمت کا مستحق ٹھہرتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں توحید ورسالت کے بعد تین مضامین ہیں جن کی باربار تاکید کی جاتی ہے۔ نماز کو اس کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنا، زکوٰۃ کو اس کے اصولوں کے تحت خرچ کرنا، اور آخرت پر یقین رکھنا ہے 2 ۔یقین کا معنٰی ہے کہ آدمی زبان سے اقرار اور اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تسلیم کرے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں ایک دن اس کا حساب دینا ہے۔ اسی تصور کے پیش نظر آخرت کے بارے میں قرآن مجید اکثر مقامات پر ایمان کی بجائے یقین کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ انسان کا ایمان وایقان جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر اس کے اخلاق اور اعمال میں نکھار اور سنوار پیدا ہوگا۔ مسائل: 1۔ قرآن مجید پر حکمت، ہدایت اور رحمت کا مرقع ہے۔ 2۔ قرآن مجید سے وہی لوگ مستفید ہوسکتے ہیں جو نیکی کے طالب ہوں گے۔ 3۔ تمام نیکیوں کا انحصار نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور آخرت پر یقین رکھنے میں ہے۔ تفسیر بالقرآن: قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ اور فلاح پانے والے حضرات : 1۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ:2) 2۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف :1) 3۔ قرآن مجیدکی آیات محکم ہیں۔ (ھود :1) 4۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء :174) 5۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ:185) 6۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس :57) 7۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران :138) 8۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل :82) 9۔ جن و انس مل کراس جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل :88) 10۔ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ (القدر :1) 11۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر :9)