سورة الروم - آیت 27

وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات کبریا کی مذکورہ بالا صفات اور قدرتیں ہیں اسی ذات اکبر نے پوری مخلوق کو ابتدا سے پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق، زمین و آسمان کی پیدائش، لیل ونہار کی گردش اور اپنی دوسری قدرتوں کا تذکرہ اور شمار کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ جس ذات نے یہ سب کچھ پیدا کیا اسی نے پوری مخلوق اور انسان کو پہلی دفعہ پیدا فرمایا اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرنے کے بعد اپنے حضور حاضر کرے گا۔ مخلوق اور انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے بالکل آسان کام ہے۔ وہ اپنی ذات اور تخلیق کے حوالے سے اعلیٰ اور بے مثال ہے۔ زمین و آسمانوں میں اس کی ذات اور صفات کی نہ کوئی مثال ہے اور نہ ہوگی وہ ہر اعتبار سے غلبہ رکھنے والا ہے اور اس کے ہر کام میں لا تعداد حکمتیں پائی جاتی ہیں۔ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کے بارے میں یہ بھی الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ کہ سوچو اور غور کرو کیا پہلی دفعہ مخلوق کو پیدا کرنا مشکل ہے یا دوسری مرتبہ۔ (العنکبوت : ١٩۔ ٢٠) ” اَلْعَزِیْزُ“ کی صفت لا کر اشارہ کیا کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، بادشاہ ہو یا فقیر، نیک ہو یا بد، ڈوب کر مرا ہو یا جل کر جس حالت میں مرا ہو۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے کہ اسے دوبارہ زندہ کرے۔ دوبارہ پیدا کرنے میں ” اَلْحَکِیْمُ“ کی حکمت یہ ہے کہ وہ ظالم کو سزا دے اور نیک کو جزا دے۔ مسائل اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کائنات کی تخلیق کے حوالے سے اپنی قدرت کی ١٦ نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ ١۔ ” اللہ“ ہی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ ٢۔ اسی نے لوگوں کو زمین پر پھیلایا اور بسایا ہے۔ ٣۔ ” اللہ“ ہی نے مردوں سے ان کی بیویوں کو پیدا کیا ہے۔ ٤۔ اسی نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور مہربانی کا جذبہ پیدا فرمایا ہے۔ ٥۔ ” اللہ“ نے ہی زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ ٦۔ اسی نے لوگوں کی مختلف زبانیں اور رنگتیں بنائی ہیں۔ ٧۔ ” اللہ“ ہی نے رات کو باعث سکون بنایا ہے۔ ٨۔ اسی نے لوگوں کے لیے دن کو کام کاج کے لیے بنایا ہے۔ ٩۔ ” اللہ“ ہی آسمانی بجلی سے لوگوں کو خوف زدہ کرتا اور امید دلاتا ہے۔ ١٠۔ وہی آسمان سے بارش کے ذریعے مردہ زمین کو شاداب کرتا ہے۔ ١١۔ ” اللہ“ ہی زمین و آسمانوں کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ ١٢۔ وہی لوگوں کو قیامت کے دن زمین سے نکلنے کا حکم دے گا اور لوگ اس کے حکم کے ساتھ ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ ١٣۔ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے۔ ١٤۔ ” اللہ“ ہی نے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ ١٥۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور تخلیق کے حوالے سے پوری کائنات میں اعلیٰ اور بے مثال ہے۔ ١٦۔ زمین و آسمان میں وہی سب پر غالب اور بڑا حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ“ اعلیٰ اور بے مثال ہے : ١۔ ” اللہ“ تعالیٰ ہی رب ہے۔ ( لانعام : ١٠٢) ٢۔ ” اللہ“ ہر چیز کا خالق ہے۔ ( الرعد : ١٦) ٣۔ ” اللہ“ ہی کی ذات ازلی اور ابدی ہے۔ (الحدید : ٣) ٤۔ مشرق ومغرب ” اللہ“ کے لیے ہے۔ (البقرۃ: ١٤٢) ٥۔ غنی ہے اور تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : ٣٥) ٦۔ زمین و آسمان پر ” اللہ“ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٧۔ قیامت کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان : ٢٦) ٨۔ ” اللہ“ ہر چیز پر گواہ۔ ( البروج : ٩) ٩۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ ” اللہ“ کی ملکیت ہے اور ا ” اللہ“ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ١٠۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت ” اللہ“ کے لیے ہے۔ (البقرۃ: ١٠٧) ١١۔ ” اللہ“ سخت عذاب دینے والا۔ ( البقرۃ: ١٦٥) ١٢۔ اس نے ہمیشہ رہنا اور باقی نے فنا ہوجانا ہے۔ (الرّحمن : ٢٦) ١٣۔ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ: ١١)