سورة الروم - آیت 14

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن وہ الگ الگ ہوجائیں گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن نہ صرف عابد اپنے معبودوں کی عبادت کے انکاری ہوں گے بلکہ وہ ان سے اپنا دامن بھی بچالیں گے۔ قیامت کے دن عابد اپنے معبودوں سے الگ ہوجائیں گے۔ ان الفاظ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ دونوں کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے۔ 1 مشرک دنیا میں اپنے معبودوں کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر تعظیم کرتے ہیں۔ اس تعظیم میں ان کے سامنے مؤدّب ہو کر کھڑے ہونا، ہاتھ جوڑنا جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرونیاز پیش کرنا شامل ہے یہی تو عبادت ہے۔ جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ مگر اکثر مشرک اسے بزرگوں کی تعظیم کے طور پر اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے اس سے باربار منع کیا اور اسے شرک قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود مشرک جن کو ” اللہ“ کے سوا وسیلہ بناتے ہیں زندگی بھر ان کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ طالب اور مطلوب، ساجد اور مسجود کو الگ الگ کردیا جائے گا اور کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔ 2 مجرموں کو ان کے گناہوں اور جرائم کے اعتبار سے الگ الگ کردیا جائے گا۔ جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ انہیں جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔ وہ وہاں ہر طرح خوش و خرم ہوں گے۔ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ جل جلالہ کے ارشادات کی تکذیب کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُہُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا واللَّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ)[ الانعام : ٢٣] ” پھران کا فریب اس کے سواکچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم! اے ہمارے رب! ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ مسائل ١۔ کافر اور مشرک کی کوئی بھی سفارش نہیں کر پائے گا۔ ٢۔ قیامت کی ہولناکیاں دیکھ کر مشرک اپنے معبودوں کا انکار کریں گے۔ ٣۔ قیامت کے دن مجرموں سے مومنوں کو ممتاز کیا جائے گا اور مجرموں کی درجہ بندی کی جائے گی۔ ٤۔ خالص عقیدہ رکھنے اور نیک اعمال کرنے والے خراماں خراماں جنت میں داخل ہوں گے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والے جہنم میں ذلیل وخوار ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کے انعامات : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بے خار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ: ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ: ٢٣) ٥۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کریں گے۔ ( الزمر : ٨٩) ٥۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ: ٣١) جہنمیوں کی سزائیں : ١۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : ٤٩) ٢۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقۃ: ٣٠۔ ٣١) ٣۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ (المعارج : ٤٤) ٤۔ قیامت کے دن مجرموں کے ابرو پاؤں کے انگوٹھے کے بالوں سے باندھ دیے جائیں گے۔ (الرحمن : ٤١) ٥۔ بے شک مجرم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤)