سورة القصص - آیت 47

وَلَوْلَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر یہ نہ ہوتا کہ انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچے گی جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مجرم لوگ اس وقت تک نصیحت حاصل نہیں کرتے جب تک ان کی گرفت نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس لیے قرآن مجید کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطب نصیحت حاصل کرنے کی بجائے آپ کی مخالفت میں کمربستہ ہوگئے۔ آپ کو تسلی دینے اور مجرموں کو انتباہ کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ اصول نہ ہوتا کہ وہ مجرموں کو دنیا میں ہلکی پھلی سزا دے تو لوگ کبھی بھی اپنے رب کے حضور جھکنے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ جب لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑتا ہے تو اس وقت وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کیوں نہ اپنا رسول مبعوث فرمایا؟ تاکہ ہم اس کی اتباع کرتے اور مومن بن جاتے۔ اس ارشاد میں بین السطور رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفوں کو سمجھایا گیا ہے کہ اگر تم نے تسلیمات کا رویہ اختیار نہ کیا تو ایک وقت آئے گا جب تم اپنے رب کی بارگاہ میں اس حسرت کا اظہار کرو گے کہ کاش ہم اپنے رسول کی اتباع کرتے اور آج عذاب سے بچ جاتے۔ قیامت کے دن مجرموں کا اقرار کرنا : (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا) [ الفرقان : ٢٧] ” اس دن ظالم لوگ اپنے ہاتھوں پر کاٹتے ہوئے کہیں گے۔ کاش ہم نے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی۔“ مسائل ١۔ مجرم عذاب آنے سے پہلے نصیحت کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔ ٢۔ ” اللہ“ کے رسول آچکے لیکن مجرم ماننے کے لیے تیار نہیں۔