سورة القصص - آیت 4

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ بنا دیا، جن میں سے ایک گروہ کو وہ نہایت کمزور کر رہا تھا، ان کے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں سے تھا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اس کے ساتھیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے اور مدت دراز تک انہیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں حقیر ترین شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدّت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بے مثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا گیا۔ جس سر زمین کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ نے برکات و ثمرات کے خزانے رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنی اسرائیل کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے فرمائے اور انھیں آزادی جیسی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ فرعون اور اس کی قوم جو کچھ کرتی تھی اسے نیست ونابود کردیا گیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث اور خلیفہ بناتا ہے : ١۔ اللہ چاہے تو تمھیں اٹھا لے اور تمھارے بعد جس کو چاہے خلیفہ بنائے۔ (الانعام : ١٣٣) ٢۔ تمھارا رب جلد ہی تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور ان کے بعد تم کو خلیفہ بنائے گا۔ (الاعراف : ١٢٩) ٣۔ ” اللہ“ ہی اقتدار اور اختیار دینے والا ہے۔ ( آل عمران : ٢٦) ٤۔” اللہ“ ہی ذلّت اور عزت دینے والا۔ ( البقرۃ: ٢٦)