سورة النمل - آیت 92

وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنذِرِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور یہ کہ میں قرآن پڑھوں، پھر جو سیدھے راستے پر آجائے تو وہ اپنے ہی لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہو تو کہہ دے کہ میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا پہلا حکم اور پیغام یہ ہے کہ ایک ہی رب کی عبادت کی جائے مکہ والوں کو اس سے سخت اختلاف تھا جس بنا پر ان کا مطالبہ تھا کہ یہ قرآن نہ پڑھا جائے۔ مکہ والوں کی آپ کے ساتھ دشمنی کی بنیاد محض قرآن مجید تھا۔ قرآن مجید میں بھی ان کو بالخصوص ان آیات کے ساتھ شدید اختلاف تھا جن میں مکہ والوں کے کفر و شرک کی مذمت کرتے ہوئے انہیں توحید خالص کی دعوت دی گئی ہے۔ نبوت کے ابتدائی سالوں میں اہل مکہ کلی طور پر قرآن مجید کے خلاف تھے لیکن جوں جوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پھیلنے لگی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے اس دعوت پر پوری طرح استقامت کا مظاہرہ کیا تو مکہ والوں نے فکری پسپائی اختیار کرتے ہوئے بالآخر یہ مطالبہ کیا کہ آپ قرآن مجید میں کچھ تبدیلیاں کریں۔ آپ اپنے مؤقف میں نرمی کا مظاہرہ کریں گے، ہم بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بات کے اور بھی جواب دیئے گئے ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ مکہ کے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتارہوں۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ مجھے حکم ہے کہ میں کعبے کے رب کی توحید بیان کرتا جاؤں۔ جس نے ہدایت پائی اس کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا جو شخص گمراہ ہوا اس کا اسے ہی نقصان ہوگا۔ میں اپنے رب کے فرمان کے مطابق لوگوں کو برے عقائد اور کردار کے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ سورۃ النمل کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے حوالے سے تیرہ (١٣) سوالات کیے جن کا جواب دینے میں ہر دور کا مشرک لاجواب رہا ہے اور قیامت تک کوئی مشرک ان سوالات کا الٹا جواب نہیں دے سکتا۔ یہی قرآن مجید کی عظمت اور سچائی ہے کہ کوئی شخص نہ اس کا توڑ پیش کرسکتا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کی کسی آیت جیسی آیت پیش کرسکتا ہے۔ اس لیے اس سورۃ کا اختتام اس بات پر کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس پر اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ لوگ نہ آپ کی دعوت کی صداقت کو جھوٹا ثابت کرسکتے ہیں اور نہ ہی توحید کے دلائل کا جواب دے سکتے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود اگر یہ لوگ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو عنقریب اللہ تعالیٰ انھیں اپنی قدرت کے ایسے معجزات دکھائے گا کہ یہ ان کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ آپ کا رب ان لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ نشانیوں سے مراد دونوں قسم کی نشانیان ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ ان میں بڑے بڑے لوگ اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کی کامیابی دیکھ کر حلقۂ اسلام میں داخل ہوجائیں، جو لوگ تسلیم کا روّیہ اختیار نہیں کریں گے وہ دنیا میں ذلیل اور آخرت میں رسوا ہوں گے۔ آپ اپنا کام صبر و شکر کے ساتھ جاری رکھیں یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں آپ کا رب اس سے غافل نہیں ہے۔ مسائل ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم تھا کہ آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید کے احکام پڑھ کر سنائیں۔ ٢۔ جس نے ہدایت پائی اس ہدایت کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا۔ ٣۔ جس نے گمراہی اختیار کی وہ گمراہی کا خمیازہ بھگتے گا۔ ٤۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نبوت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آپ لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں۔ تفسیر بالقرآن نبوت کے مرکزی مقاصد : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے سامنے بیان کریں جو کچھ ان کی طرف بھیجا گیا ہے۔ (النحل : ٤٤) ٢۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : ٥) ٣۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہٰذا میری عبادت کرو۔ (الانبیاء : ٢٥) ٤۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : ٥٦) ٥۔ اللہ نے ان پڑھ لوگوں میں رسول مبعوث فرمایا۔ جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے، انہیں تعلیم دیتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔ (الجمعہ : ٢) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں۔ ( ابراہیم : ١)