سورة النمل - آیت 67

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا وَآبَاؤُنَا أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہم ضرور نکالے جانے والے ہیں؟

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بے علمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔ منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟“ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ قیامت کے منکروں اور اللہ کے باغیوں کا کیا انجام ہوا؟ بار بار دلائل دینے اور سمجھانے کے باوجود یہ لوگ نہیں مانتے تو اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو ان کے انکار اور شرارتوں پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں آخرت کے منکروں کے لیے مجرم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جب آدمی یہ عقیدہ بنا لیتا ہے کہ مجھے اپنے اعمال کا مرنے کے بعد کسی کو جواب نہیں دینا ایسا شخص ظلم اور جرم کرتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں کرتا۔ بالخصوص وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح لوگوں کی گرفت اور سزا سے بچنے کے اسباب رکھتا ہے۔ ایسا شخص انسانیت کی حدود سے نکل کر درندوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ آخرت کا انکار جرائم کا سب سے بڑا سبب ہے انسان کو آخرت کی جوابدہی کا فکر ہو تو وہ اقتدار اور اختیار رکھنے کے باوجود ظلم کرنے سے بچتا ہے۔ کیونکہ اس کا عقیدہ ہوتا ہے اگر میں کسی سبب قانون اور لوگوں سے بچ نکلا تو قیامت کے دن ضرور پکڑا جاؤں گا۔ مسائل ١۔ منکرین آخرت کے پاس آخرت کے انکار کی کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہے۔ ٢۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔ ٣۔ لوگوں کو تاریخ کا مطالعہ اور زمین پر چل پھر کر مجرموں کا انجام دیکھنا چاہیے۔ ٤۔ الدَّاعِیْ کو لوگوں کے کفر و شرک پر حد سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے فکری اور عملی ثبوت : ١۔ اس بات پر تعجب ہے یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : ٥) ٢۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦ ) ٣۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ: ٦) ٤۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : ٥١) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کیا۔ ( المائدہ : ١١٠) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چار پرندے ذبح کروا کر انہیں زندہ کیا۔ ( البقرۃ: ٢٦٠) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر اور اس کے گدھے کو سو سال مردہ کرنے کے بعد زندہ کیا۔ ( البقرۃ: ٢٥٩ ) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت کے بعد دوبارہ زندہ فرمایا۔ ( البقرۃ: ٢٤٣) ٩۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو 309 سال بعد نہیں اٹھایا تھا۔ (الکہف : ٢٥ )