سورة النمل - آیت 19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تو وہ اس کی بات سے ہنستا ہوا مسکرایا اور اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پرکی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتہائی خوشی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکرا ادا کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی آواز سنی تو مسکرائے اور سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس قدر علم اور اقتدار عطا فرمایا ہے کہ میں ایک چیونٹی کی آواز کو سنتا اور سمجھتا ہوں۔ اتنے بڑے اقبال اور اقتدار کے مالک ہونے کے باوجود اتراتے نہیں بلکہ اپنے رب کا ان الفاظ میں شکر ادار کرتے ہیں۔ الٰہی ! جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر احسانات فرمائے ہیں میں ان کا اعتراف کرتا ہوں اور شکر گزار ہوں۔ الٰہی! مجھے اپنے انعامات کے نتیجہ میں ایسے اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما جن اعمال کو تو پسند کرتا ہے۔ مجھے اپنی خاص رحمت کے ساتھ اپنے نیک بندوں میں شامل فرما ! حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں ” اَوْزِعْنِیْ“ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مجھے اس طرح پابند کیجیے جس بناء پر میں وہی کام کروں جنھیں تو پسند کرتا ہے۔ جن کا عام الفاظ میں یہ معنٰی ہے کہ میرے رب مجھے ان کا موں کی ہمت اور طاقت نصیب نہ کرنا جن کاموں کو تو پسند نہیں کرتا۔ کسی آدمی کے صالح فکر اور نیک ہونے کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرے اور اس کا شکر بجا لانے کی پوری کوشش کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا پریشانیوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے یہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ شکر کے مقابلہ میں ناشکری ہے جو کفر کے مترادف ہے۔ (بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ) [ الزمر : ٦٦] ” پس اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزاربندوں میں شامل ہوجائیے۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ ہونے کے ساتھ مزید ملنے کے حقدار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ایسا عمل ہے جس کے بارے میں یہ واضح کردیا گیا کہ اس کی گرفت سے بچنے کے ساتھ مزید عطاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سرکشی اور بغاوت کی حدود پھلانگتے ہوئے کہا تھا۔ (وَلَاتَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِےْنَ) [ الاعراف : ١٧] ” اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔“ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعائیں : (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ کُلِّ صَلاَۃٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ) [ سنن النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ] ” حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نماز کے بعد اس دعا کو ضرور پڑھا کرو۔ اے میرے پروردگار ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“ (عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِی یُبَلِّغُنِی حُبَّکَ اللَّہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِی وَأَہْلِی وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی عَقْدِ التَّسْبِیح بالْیَدِ] ” حضرت ابی درداء (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داؤد (علیہ السلام) کی دعا دوہرایا کرتے تھے اور کہتے۔ اے اللہ میں تم سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی محبت جو تم سے محبت رکھتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تمھاری محبت کے قریب کر دے۔ اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کا حق دار بنا دے اے اللہ ! میرے لیے اپنی محبت میرے نفس، اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی بڑھ کر عزیز بنا دے۔“ مسائل ١۔ سلیمان (علیہ السلام) ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے تھے۔ ٢۔ سلیمان (علیہ السلام) اپنے رب سے صالح اعمال کرنے کی توفیق مانگتے تھے۔ ٣۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دنیا کے ساتھ اپنے رب سے جنت میں نیک لوگوں کی رفاقت کی دعا کی۔ تفسیر بالقرآن شکر کی اہمیّت اور اس کی فضیلت : ١۔ اللہ نے تمہارے لیے سماعت، بصارت اور دل بنایا تاکہ تم شکر کرو۔ (النحل : ٧٨) ٢۔ اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تمہیں زیادہ دے گا۔ (ابراہیم : ٧) ٣۔ اگر تم اللہ کا شکر کرو تو وہ تم سے خوش ہوگا۔ (الزمر : ٧) ٤۔ اگر تم اللہ کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ تو تمہیں عذاب کرنے کا اسے کیا فائدہ؟ (النساء : ١٤٧)