سورة النمل - آیت 6

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بلاشبہ یقیناً تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے، سب کچھ جاننے والے کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس قرآن کو مومنوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری کے طور اتارا گیا ہے یہ من جانب اللہ ہے۔ سرورِدو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ والوں کو ایک یہ بھی اختلاف تھا کہ یہ نبی قرآن مجید کو خود بنا لیتا ہے اس الزام کی اس سے پہلے مختلف الفاظ اور پیرائے میں تردید کی گئی ہے۔ یہاں اس بات کو یوں بیان فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک کی ہرگز گنجائش نہیں کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا حکیم اور ہر بات کو جاننے والا ہے۔ ان الفاظ میں کفار کی تردید کرنے کے ساتھ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس بات کا کبھی خیال نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی مخالفت کرنے والوں کا علم نہیں۔ یقین رکھو کہ ہر بات اس کے علم میں ہے لیکن وہ اپنی حکمت کے ساتھ حق و باطل میں کشمکش پیدا کرتا ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوجائے۔ وحی کا معنٰی : لغوی لحاظ سے وحی میں مندرجہ ذیل مفہوم پائے جاتے ہیں۔ ١۔ الہام : (وَأَوْحَیْنَا إِلَی أُمِّ مُوسَی أَنْ أَرْضِعِیہِ) [ القصص : ٧] ” ہم نے امّ موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تم موسیٰ کو دودھ پلاؤ۔“ ٢۔ شہد کی مکھی کو الہام : (وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ)[ النحل : ٦٨] ” تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ تو پہاڑوں، درختوں اور چھپروں میں گھر بنا لے۔“ ٣۔ وحی کا معنٰی اشارہ۔ جس طرح زکریا (علیہ السلام) کو اشارہ ہوا۔ (فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا) [ مریم : ١١] ” وہ محراب سے نکل کے قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ کیا کہ صبح وشام سبحان اللہ کہو۔“ ٤۔ شیطان کا وسوسہ پیدا کرنا اور برائی کو انسان کے لیے مزّین کرنا۔ (وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ) [ انعام : ١٢١] ” بیشک شیطان اپنے دوستوں کو اشارہ کرتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ جھگڑیں۔“ (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) [ انعام : ١١٢] ” ہم ہر نبی کے لیے انسانی اور جناتی شیاطین میں سے دشمن بناتے ہیں جو ایک دوسرے کو چکنی چپٹی دھوکا دینے والی بتاتیں بتاتے ہیں۔“ ٥۔ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو کسی کام کے کرنے کا حکم۔ ( اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلآءِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) [ الانفال : ١٢] ” جب تیرے رب نے فرشتوں کی طرف وحی کی بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ۔“ ٦۔ انبیاء (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجنا۔ (وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِیْ إِلَیْہِمْ)[ الانبیاء : ٧] ” ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سبھی مردوں میں سے تھے اور ہم نے ان کی طرف وحی کی۔“ مسائل ١۔ قرآن مجید نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل و دماغ کا اختراع نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ ” اللہ“ کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ٣۔ ” اللہ“ لوگوں کے اعمال اور ان کے دلوں کی حالت جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے : ١۔ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ (الشعراء : ١٩٢) ٢۔ ” اللہ“ ہی قرآن مجید نازل کرنے والا، حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حٰم السجدۃ: ٤٢) ٣۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : ٩) ٤۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : ١)