سورة الشعراء - آیت 155

قَالَ هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے، اس کے لیے پانی پینے کی ایک باری ہے اور تمھارے لیے ایک مقرر دن کی باری ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے معجزہ طلب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس کے پیچھے اس کا دودھ پیتا بچہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تائید میں اور قوم کے مطالبہ کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اونٹنی اور اس کا بچہ کو نمودار کیا۔ جب اونٹنی اپنے بچہ کے ساتھ قوم کے سامنے آچکی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور پانی پئیں گے۔ خبردار! اسے تکلیف دینے کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا۔ اگر تم نے اس کو تکلیف پہنچائی تو اللہ کا عذاب تمھیں دبوچ لے گا۔ اس انتباہ کے باوجود انھوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کو عذاب نے آپکڑا پھر وہ ذلیل و خوار ہوئے۔ اس واقعہ میں عبرت کا سبق یہ ہے کہ جو قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور پھر اس کا انکار کرئے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہلاک کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی قوم کی دنیوی ترقی اور اس کے بڑے بڑے مضبوط قلعے اور محلات کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ قوم ثمود کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لیے بار بار مہلت دی کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربانی فرمانے والا ہے۔ تاکہ لوگ اس کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں۔ مسائل ١۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا اونٹنی ان کے سامنے پہاڑ سے نمودار ہوئی۔ ٢۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئیے گی اور دوسرے دن تم لوگ پانی لیا کرو گے۔ ٣۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ تکلیف دینے کی غرض سے اونٹنی کو ہاتھ نہ لگان اور نہ تباہ ہوجاؤ گے۔ تفسیر بالقرآن قوم ثمود کی تباہی کا ہولناک منظر : ١۔ صالح کی قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کو فرمایا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا۔ (ھود : ٦٤، ٦٥) ٢۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : ١٥٧) ٣۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعراء : ١٥٣۔ ١٨٥) ٤۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : ٧٧) ٥۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : ١٤) ٦۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ: ٥) ٧۔ قوم عاد و ثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٨۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : ٧٨) ٩۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : ٦٧) ١٠۔ قوم ثمود کی راہنمائی کی گئی لیکن انہوں نے گمراہی کو ترجیح دی تو انہیں ہولناک آواز نے آ لیا۔ ( حٰم السجدۃ: ١٧)