سورة آل عمران - آیت 15

قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتاؤں، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : دنیا پرستی کے بجائے آدمی کی نظر آخرت کی دائمی نعمتوں پر ہونی چاہیے ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جن میں یہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ اور وہ اپنے رب سے معافی مانگتے ہیں۔ میرے محبوب فرمائیں کہ اے دنیا دارو! آؤ میں تمہیں ان نعمتوں سے بڑھ کر نعمتیں بتاتا ہوں۔ جو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پرہیزگار بندوں کے لیے جنت میں تیار فرمائی ہیں۔ ایسی جنت جس کے نیچے نہریں اور آبشاریں جاری ہیں۔ اس میں متقین کے لیے پارسا و باوفا اور حسن وجمال کی پیکر بیویاں ہوں گی۔ اس جنت کے وارث ایسے پرہیزگار ہوں گے جو نیکی اور پارسائی کے باوجود اپنے رب سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی معافی طلب کرتے اور ہر دم جہنم کی ہولناکیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ ان کے اوصاف یہ بھی ہیں کہ وہ نیک کاموں پر مستقل مزاج، مصائب ومشکلات پر حوصلہ مند، سچ کے داعی‘ حق پر قائم رہنے والے، ہر حال میں اپنے رب کے فرماں بردار، عُسرو یسر میں خرچ کرنے والے اور سحری کے وقت توبہ و استغفار سے ماضی کی کوتاہیوں پر معذرت اور اپنے آپ کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر قسم کے اعمال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے کہ کون دنیا کی آسائشوں کو مقدم جاننے والے اور کون اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دینے والے ہیں۔ ایسے کردار کے حامل لوگ جنت کے وارث ہوں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ اپنی رضا مندی کا اظہار فرمائیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَالَنَا لَانَرْضٰی وَقَدْ أُعْطِیْنَا مَالَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُوْلُ أَنَآ أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ قَالُوْا یَارَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُوْلُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِیْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اہل جنت کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار فرمائیں گے اے جنت میں رہنے والو! جنتی کہیں گے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں آپ کے حضور پیش ہیں۔ ہر قسم کی بھلائی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تم خوش ہو؟ وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب! بھلا ہم کیوں نہ خوش ہوں ؟ تو نے تو ہمیں ایسی نعمتیں عطاکی ہیں جو آپ نے اپنی مخلوق میں کسی کو عطا نہیں کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر نعمت عطانہ کروں؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار! اس سے بڑھ کر اور نعمت کیا ہوسکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم پر ہمیشہ کے لیے خوش ہوں اب کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔“ مسائل ١۔ جنتیوں پر اللہ ہمیشہ راضی رہے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار اور مجرموں کو دیکھ رہا ہے۔ ٣۔ نیکو کار ہر دم اپنے گناہوں کی معافی اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ ٤۔ اللہ کے بندے صابر، سچے، تابعدار، مخیر اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہوتے ہیں۔ تفسیربالقرآن مومنین کی صفات : ١۔ زمین پر اللہ کا نظام رائج کرنے والے ہیں۔ (الحج : ٤١) ٢۔ اللہ کا ڈر رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ( المومنون : ٥٧) ٣۔ زمین پر امن کے داعی ہیں۔ ( القصص : ٨٣) ٤۔ کروٹ کروٹ اللہ کو پکارتے ہیں۔ (السجدۃ: ١٦) ٥۔ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ (الاحزاب : ٣٥) ٦۔ صبح و شام معافی مانگنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں۔ (آل عمران : ١٧)