سورة الشعراء - آیت 77

فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی نفی کرنے کے بعد رب العالمین کا تعارف کرواتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العالمین کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہنمائی فرمائی وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ میں جب بیمارہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ وہی مجھے مارے گا اور وہی مجھے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس موقع پر رب العالمین کی نو صفات کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذات باری تعالیٰ کے احترام کے پیش نظر بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ موحّد کے لیے مؤدب ہونا از بس ضروری ہے۔ مسائل ١۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ ہی راہنمائی کرنے والا ہے۔ ٣۔ اللہ ہی کھلاتا ہے۔ ٤۔ اللہ ہی پلانے والا ہے۔ ٥۔ اللہ ہی بیمار کرتا ہے ٦۔ اللہ ہی شفا دینے والا ہے۔ ٧۔ اللہ ہی موت دینے والا ہے۔ ٨۔ اللہ ہی دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔