سورة الفرقان - آیت 51

وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر ہم چاہتے تو ضرور ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت کفر اختیار کرتی ہے۔ حالانکہ انھیں سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اس قدر واضح اور جامع ہیں کہ اگر انسان ان کی طرف تھوڑی سی توجہ بھی مبذول کرے تو وہ اپنے رب کو پہچان اور ہدایت پا سکتا ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت حقیقت کی نگاہ سے ” اللہ“ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ نشانیاں بتلانے اور دکھلانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے اپنی اپنی قوم کو یہ بات بار، بار سمجھنانے کی کوشش کی کہ لوگو! اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان کا انکار کرنے کی بجائے اس پر ایمان لاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نے کفر ہی اختیار کیے رکھا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر بستی کے لیے ایک رسول مبعوث کرتا جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ اگر ایک ایک بستی میں رسول مبعوث کردیا جائے تو پھر بھی لوگ کفر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت مختلف علاقوں اور زمانوں میں پہ درپہ وقفہ وقفہ کے بعد رسول مبعوث فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے سرور دو عالم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب فرمایا تاکہ پوری دنیا میں فکری وحدت پیدا ہونے کے ساتھ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام عام ہوجائے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ لہٰذا اے رسول آپ کو کافروں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا جہاد جاری رکھنا چاہیے۔ یہاں جہاد کبیرہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی ہے کفر و شرک کے خلاف ہر جانب سے بھرپور جدوجہد کرنا۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ صرف قتال فی سبیل اللہ کو جہاد قرار دیا ہے بلکہ دین کی سربلندی کے لیے مال اور زبان کے ساتھ کوشش کرنے کو بھی جہاد قرار دیا۔ یہی جہاد اکبر ہے جو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی جہاں قتال سے منع کیا گیا تھا جس کی اجازت مدینہ میں دی گئی۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَفْضَلُ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَاءِرٍ أَوْ أَمِیرٍ جَاءِرٍ )[ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَی بَنِی إِسْرَاءِیلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُولُ یَا ہَذَا اتَّقِ اللَّہِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ یَمْنَعُہُ ذَلِکَ أَنْ یَکُونَ أَکِیلَہُ وَشَرِیبَہُ وَقَعِیدَہُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِکَ ضَرَبَ اللَّہُ قُلُوبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ (لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ)إِلَی قَوْلِہِ (فَاسِقُونَ) ثُمَّ قَالَ کَلاَّ وَاللَّہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَی یَدَیِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا) [ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنی اسرائیل میں نقائص واقع ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو برائی کرتے ہوئے دیکھتے تو اسے کہتا اللہ سے ڈرو اور اس گناہ کو چھوڑ دو یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ اگلے دن ملتا تو برائی سے نہ روکتا بلکہ اس کے کھانے، پینے اور مجلس میں شریک ہوجاتا۔ جب انہوں نے اس طرح کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے انکے بعض کو بعض پر مسلط کردیا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی (بنی اسرائیل پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبانی لعنت کی گئی فاسقون تک) پھر فرمایا کہمجھے اللہ کی قسم تم نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور برائی سے روکتے رہو گے اور ظالم کا ہاتھ روکو گے حق کو حق اور نا حق کو ناحق سمجھو گے۔“ (عَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ حینَ أَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَی النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ اِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَدْ أَنْزَلَ فِی الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَکَیْفَ تَرَی فیہِ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاہِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ) [ رواہ احمد : مسند کعب بن مالک] ” حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے شعراء کے متعلق یہ آیت نازل کی تو کعب بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر عرض کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے شاعروں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے جس کا آپ کو علم ہے اور آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بے شک مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے۔“ مسائل ١۔ دین کی سربلندی کے لیے تبلیغ کرنا جہاد کبیرا ہے۔ ٢۔ کفر و شرک کے خلاف ہر طرح کا جہاد کرنا چاہیے۔