سورة الفرقان - آیت 10

تَبَارَكَ الَّذِي إِن شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَل لَّكَ قُصُورًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بہت برکت والاہے وہ کہ اگر چاہے تو تیرے لیے اس سے بھی بہتر بنادے ایسے باغات جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں اور تیرے لیے کئی محل بنادے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا جواب۔ کفار نے محض حجت بازی کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اگر آپ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے لیے ایسا باغ ہونا چاہیے جو اپنے پھل سے بھرا ہوا ہو۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ بڑی بابرکت ذات ہے اگر وہ چاہے تو آپ کے لیے کفار کے مطالبہ سے کئی گنا بہتر آپ کو باغ عنایت فرما دے جس کے نیچے نہریں چل رہی ہوں یا اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کو اتنا مال عنایت کرے کہ جس سے آپ بڑے بڑے محلات تیار کرسکیں۔ لیکن اللہ نے آپ کے لیے یہی پسند فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں نہ کہ لینڈ لارڈ ور سرمایہ دار کے طور پر۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو یہ اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو بادشاہ نبی بن جائیں اگر چاہیں عبد اور اس کے رسول نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکمران نبی بننے کی بجائے اللہ کا بندہ اور رسول بننا پسند فرمایا تھا۔ ” حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ ! اگر میں چاہتا تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ ہوتے میرے پاس ایک فرشتہ آیا جس کی کمر کی لمبائی کعبہ کے برابر تھی۔ اس نے کہا کہ آپ کا رب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ عاجز انسان کی حیثیت سے نبی بننا چاہتے ہیں یا بادشاہ کی طرح۔ میں نے جبرائیل کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اپنے آپ کو اختیار کیجئے ! تو میں نے کہا کہ عاجز انسان کی حیثیت سے نبی بننا چاہتا ہوں۔ سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا آپ فرمایا کرتے تھے میں عاجز آدمی کی طرح کھانا کھانا اور بیٹھنا پسند کرتا ہوں۔“ [ رواہ فی شرح السنۃ: باب تواضعہ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی بابرکت ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنے نبی کو باغات اور محلات عنایت فرماتا۔