سورة الفرقان - آیت 1

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن اس سورۃ مبارکہ کی ابتدا ” تَبَارَکَ الَّذِیْ““ کے الفاظ سے ہوتی ہے جس میں جلال کے ساتھ کمال بھی پایا جاتا ہے۔ تَبَارَکَ سُپرڈگری کا صیغہ ہے۔ جس کا معنٰی ہے ہر اعتبار سے بلندوبالا ذات جو لوگوں کی دعاؤں اور امیدوں سے بڑھ کر فائدہ پہنچانے والی ہے۔ سورۃ کی ابتدا میں قرآن مجید کے لیے دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور دلائل اور برھان کے حوالے سے حق اور باطل، کھرے اور کھوٹے میں تمیز کردینے والی کتاب ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اطہر پر نازل فرمایا تاکہ آپ مجرموں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ قرآن مجید میں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا تعارف کرواتے ہوئے کئی بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ آپ کی نبوت کا دو لفظی پیغام یہ ہے کہ آپ حقیقی ایمان اور صالح کردار رکھنے والوں کو خوشخبری دینے والے ہیں کفار، مشرکین اور جرائم پیشہ لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی بارہا دفعہ بتلائی ہے کہ آپ کی نبوت کسی خاص دور، مخصوص قوم اور قبیلہ کے لیے نہیں بلکہ آپ قیامت تک کے لیے رسول بنائے گئے ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا پیغام پوری دنیا میں پہنچے گا۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ) [ رواہ احمد : مسند ابی ذر ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں۔ ١۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ ٢۔ میرے لیے ساری زمین سجدہ گاہ بنادی گئی ہے۔ ٣۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ ٤۔ میری رعب کے ذریعے مدد فرمائی گئی ہے اس وجہ سے دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ ٥۔ مجھے قیامت کے دن کہا جائے گا مانگ عطا کیا جائے گا اور تیری امت کے حق میں تیری شفاعت قبول کی جائے گی۔ جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت فائدہ دے گی۔“ (لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَلَایَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ) [ مسند أحمد : کتاب مسند الشامیین، باب حدیث تمیم الداری] ” یہ دین ہر صورت وہاں تک پہنچے گا جہاں رات کی تاریکی اور دن کی روشنی پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شہر اور بستی کے ہر گھر میں اس دین کو داخل فرما دے گا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر اعتبار سے بابرکت ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے۔ ٣۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار، مشرکین اور مجرمین کو ان کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تفسیر بالقرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عالمگیر نبوت کے چند دلائل : ١۔ اے رسول اعلان فرمائیں کہ ” اللہ“ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رسول منتخب فرمایا ہے۔ (الاعراف : ١٥٨) ٢۔ رسول اللہ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (سباء : ٢٨) ٣۔ رسول اللہ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : ٤٥) ٤۔ رسول اللہ پوری دنیا کے لیے رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٥۔ رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠)