سورة النور - آیت 11

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس واقعہ کی بنا پر یہ سورت نازل ہوئی اس کی حقیقت : یہ سورۃ مبارکہ جس واقعہ پر نازل کی گئی اب اس معاملہ کی حقیقت اور اس کی سنگینی کا ذکر کیا جاتا ہے جسکا اختصار یہ ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ اور سفر کے لیے تشریف لے جاتے تو اس سے پہلے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے جس بیوی کا قرعہ نکلتا آپ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ غزوہ بنی مصطلق میں قرعہ میرے نام نکلا۔ میں آپ کے ساتھ سفر میں تھی واپسی پر ہم نے مدینہ سے کچھ دور رات کے پہلے پہر قیام کیا مجھے حاجت کے لیے پڑاؤ سے دور جانا پڑا۔ جب فارغ ہو کر پڑاؤکی جگہ آنے لگی تو میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر نیچے گرپڑا۔ میں اسے تلاش کرتی رہی جب پڑاؤ کے مقام پر پہنچی تو قافلہ جا چکاتھا۔ قافلہ والوں نے میرا ہودج اٹھا کر اونٹ پر رکھا اور چل دئیے۔ میرا وجود ہلکا تھا قافلہ والوں نے کوچ کی جلدی میں ہودج کے ہلکے پن کا خیال نہ کیا اور خالی ہودج کے ساتھ چل نکلے۔ میں نے ادھر ادھر تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن قافلہ دور نکل چکا تھا۔ میں یہ سوچ کر پڑاؤ کی جگہ آکر بیٹھ گئی کہ جب شتر بانوں کو معلوم ہوگا تو واپس اسی جگہ لوٹیں گے میں اسی جگہ بیٹھی انتظار کرتی رہی۔ اسی حالت میں مجھے نیند آگئی میں زمین پر لیٹ گئی۔ صفوان (رض) بن معطل کی ڈیوٹی تھی کہ وہ قافلہ کے آخر میں رہیں تاکہ گری پڑی چیز کا خیال رکھیں۔ وہ کچھ دیر کے بعد میرے قریب پہنچے تو اس نے مجھے پہچان لیا۔ کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے اس نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ اس نے میرے قریب آکر قدرے بلند آواز سے ” اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ کہا اس کی آواز سن کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی اور میں نے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم نہ اس نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے اس سے کلام کی۔ اس نے اپنی سواری کو میرے قریب لا کر بٹھایا تاکہ میں سوار ہوجاؤں۔ میں اونٹ پرسوار ہوئی وہ مہار تھامے ہوئے پیدل چلنے لگے۔ ہم دوپہر کے وقت قافلے کے ساتھ شامل ہوگئے اس وقت قافلہ دوپہر کے آرام کے لیے ایک جگہ ٹھہرا ہوا تھا۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے اچھالا یہاں تک کہ مسطح بن اثاثہ، حسان (رض) بن ثابت خواتین میں حمنہ (رض) بنت جحش جو ام المومنین حضرت زینب (رض) بنت جحش کی بہن تھیں انہوں نے منافقوں کی مذموم مہم میں حصہ لیا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں سفر سے واپسی پر بیمار پڑگئی مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ میرے خلاف کیا طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے۔ البتہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کارویّہ میرے ساتھ پہلے جیسا نہ تھا پہلے کبھی بیمار ہوتی تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفقت ومہربانی غیر معمولی ہوتی لیکن اس مرتبہ آپ میرے گھر تشریف لاتے تو فقط اتنا استفسار فرماتے کہ عائشہ آپ کیسی ہیں ایک دو جملوں کے سوا کوئی بات نہ کرتے۔ میں سمجھ گئی کہ معاملہ بدلہ ہوا ہے۔ ایک رات قضائے حاجت کے لیے گھر سے باہر گئی کیونکہ ان دنوں گھروں میں لیٹرین نہیں ہوتی تھیں۔ مسطح (رض) بن اثاثہ کی والدہ ام مسطح میرے ساتھ تھیں قضائے حاجت کے بعد ہم گھر آرہی تھیں کہ اچانک ام مسطح گرپڑیں اس کے منہ سے مسطح کے بارے میں بدعانکلی کہ مسطح ہلاک ہوجائے۔ میں نے کہا ماں آپ نے ایسے الفاظ کیوں کہے مسطح تو بدری صحابی ہے اس نے کہا بھولی بیٹی تجھے معلوم نہیں کہ وہ آپ کے بارے میں کیا کہتا پھرتا ہے اس نے مجھے پوری بات بتلائی۔ میں گھر پہنچی تو میری طبیعت بالکل نڈھال ہوچکی تھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ نے پہلے کی طرح چند الفاظ میں میری طبیعت کے بارے میں پوچھے۔ میں نے آپ سے عرض کی کہ آپ مجھے میکے جانے کی اجازت عنایت فرمائیں آپ نے بلاتاخیر اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے گھر آئی میرے گھروالوں کی پریشانی نمایاں تھی۔ میں نے دن رات روتے ہوئے گزارے اس حالت میں تقریباً ایک مہینہ گزر گیا ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر تشریف لائے میرے پاس تشریف فرما ہو کر فرمانے لگے کہ عائشہ (رض) اگر تو پاکباز ہے تو اللہ تعالیٰ تیری برأت فرمائے گا اگر تجھ سے غلطی ہوگئی ہے تو تجھے اپنے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں سنتے سنتے میرے آنسو تھم گئے۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میری صفائی پیش کریں انہوں نے فرمایا کہ بیٹی میں کیا جواب دوں میں نے اپنے والد سے درخواست کی کہ ابو آپ میری صفائی دیں لیکن انہوں نے بھی فرمایا۔ واللہ میں کیا جواب دوں۔ آخر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ یہ بات آپ لوگوں کے دل میں بیٹھ گئی ہے اگر میں کہوں کہ اللہ جانتا ہے میں پاک صاف ہوں تو آپ لوگ پھر بھی یقین نہیں کریں گے اگر میں اپنے آپ پر لگنے والے الزام کو تسلیم کرلوں، تو آپ لوگ اس پر یقین کرلیں گے۔ اللہ کی قسم میرا معاملہ آپ کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسا ہے مجھے پریشانی کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نام بھول گیا۔ اس لیے میں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نام لینے کی بجائے کہا کہ میرا معاملہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسا ہے میرے لیے صبر کرنا ہی بہتر ہے اللہ تعالیٰ ہی میری مدد فرمانے والا ہے۔ یہ کہہ کر میں نے کروٹ بدل لی۔ مجھے یقین تھا کیونکہ میں اس الزام سے بری ہوں اللہ تعالیٰ ضرور میری برأت فرمائے گا لیکن یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میری برأت قرآن مجید میں نازل فرمائے گا۔ ابھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ سے اٹھے نہ تھے کہ آپ پروحی کی کیفیت طاری ہوگئی سردی کے باوجود آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگا۔ وحی ختم ہوئی تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا تیرے لیے خوشخبری عائشہ تیری برأت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرما دی ہے۔ یہ سن کر میری والدہ نے فرمایا کہ بیٹی اٹھو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں صرف اپنے رب کا شکر ادا کروں گی جس نے میری پاک دامنی کے لیے آیات نازل فرمائی ہیں۔ ان آیات میں پہلی بات یہ فرمائی کہ جن لوگوں نے تم میں سے یہ تہمت لگائی اور اسے آگے پھیلایا۔ اے مسلمانوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والو ! اسے اپنے لیے برا خیال نہ کرو کیونکہ اس میں تمہارے لیے تمہارے رب نے بہتری رکھ دی ہے البتہ اس مذموم مہم میں جس نے جتنا حصہ لیا وہ اتنا ہی گنہگار ہوا ہے جس شخص نے اس مہم کا آغاز کیا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اسے عظیم عذاب ہوگا۔ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی تھے اس مذموم مہم میں چند مسلمان محض پراپیگنڈہ سے متأثر ہونے کی بناء پر ملّوث ہوئے۔ اس واقعہ میں خیر کے چند پہلو : 1 منافقوں نے سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت وحرمت کو داغ دار کرنے کی کوشش کی جس میں منافق پہلے سے زیادہ حقیر اور ذلیل ہوئے۔2 اللہ تعالیٰ نے منافقوں کو گلی کے تنکوں سے ہلکا کردیا۔3 رب کریم نے سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ کی برأت قرآن مجید میں نازل فرمائی جس کی قیامت تک تلاوت ہوتی رہے گی اور حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ حسد وبغض رکھنے والے قیامت تک جلتے رہیں گے۔4 حضرت ابوبکر (رض) اور آپ کی لخت جگر حضرت عائشہ (رض) کی پاکدامنی کے شہرے قیامت تک بلند ہوتے رہیں گے۔5 مسلمانوں کو زبردست اخلاقی نظام سے سرفراز کیا گیا۔6 صحابہ (رض) کی اخلاقی قدروں کے حوالے سے آزمائش کی گئی تین افراد کے سوا پوری کی پوری جماعت بلند ترین اخلاقی معیار پر پوری اتری۔7 مذموم مہم میں تین افراد ملوث ہوئے جنہوں نے اسّی اسّی (٨٠) کوڑے کھاکر سمع واطاعت کی مثال پیش کی۔ اور آئندہ کے لیے سچی توبہ کی اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہر اچھے اور برے کام کی حکمت سے واقف ہے۔ ٢۔ ہر کسی کو اس کے کیے کا صلہ ملے گا۔ ٣۔ سیدہ عائشہ پر تہمت لگانے والے سرغنہ کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔