سورة البقرة - آیت 269

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

دانائی عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے دانائی عطا کی جائے تو بلاشبہ اسے بہت زیادہ بھلائی دے دی گئی اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنا اور اس کی راہ میں حلال و طیب مال خرچ کرنا عقل و دانش کا کام ہے۔ اہل علم نے حکمت کے بے شمار معانی بیان فرمائے ہیں لیکن حکمت کاسب سے جامع معنیٰ حدیث رسول ہے کیونکہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کا وہی مفہوم بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی منشا ہے۔ تفسیر بحر المحیط کے مصنف سورۃ البقرہ آیت ٢٥١ کی تفسیر میں حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے حوالے سے لکھتے ہیں : (اَلْحِکْمَۃُ وَضْعِ الْاُمُوْرِ فِیْ مَحَلِّہَا عَلَی الصَّوَابِ وَکَمَالِ ذٰلِکَ اَنَّمَا یَحْصِلُ بالنَّبُوَّۃِ) ” حکمت کا حقیقی معنی ہر چیز کو ٹھیک طور پر اس کے مقام پر رکھنا ہے۔ حکمت کی تکمیل نبوت کے ذریعے ہوا کرتی ہے لہذا حکمت وہ ہے جو اللہ کے رسول کا ارشاد ہے۔“ [ بحوالہ معارف القرآن مفتی محمد شفیع ] امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ حکمت کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنٰی تمام چیزوں کی مکمل معرفت اور ان کی ٹھیک ٹھیک ایجاد ہے۔ اور جب اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت ہو تو اس سے مراد معرفت اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں لفظ حکمت کو کئی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے صدقات کے مسائل اور احکامات کے بیان کے بعد حکمت کو بہت بڑی خیر قرار دینے میں جو حکمت سجھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک دانا اور سمجھ دار آدمی یہ حرکت کبھی نہیں کرسکتا کہ وہ ایسا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرے جسے وہ خود لینے کے لیے تیار نہ ہو اور نہ ہی کسی دانشور سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آخرت کے بدلے دنیا کے مال کو ترجیح دے کر بخل کا مظاہرہ کرے یا نمود و نمائش کے لیے خرچ کرے۔ نصیحت تو اہل دانش ہی قبول کیا کرتے ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حکمت و دانش بہت بڑا خزانہ ہے۔ ٢۔ عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ تفسیربالقرآن انبیاء علم وحکمت کے داعی تھے : ١۔ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات حکمت پر مبنی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا۔ (البقرۃ: ١٢٩) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو حکمت سے نوازا۔ (البقرۃ: ٢٥١) ٣۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتاب وحکمت سکھانے کے لیے بھیجا گیا۔ (آل عمران : ١٦٤)