سورة المؤمنون - آیت 3

وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نماز بے حیائی سے بچاتی ہے اس لیے نماز کے بعد لغو سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ مومنوں کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ بے ہودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نماز انسان کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے (العنکبوت : ٤٥) لہٰذا مومن کی یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ ناصرف برائی اور بے حیائی سے اجتناب کرے بلکہ اسے لغو باتوں اور کاموں سے بھی بچنا چاہیے۔ دوسرے مقام پر عبادالرحمن کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ بے ہودہ باتوں کے قریب نہیں جاتے جب ان کا لغو اور بے ہودہ کام کے قریب سے گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔ (الفرقان : ٧٢) عربی لغت میں ” لغو“ بے ہودہ بات اور کام کو کہتے ہیں۔ کامیاب ہونے والے مومنوں کے اوصاف میں یہ وصف ضرور ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے لغو کام سے اجتناب کرتے ہیں۔ اہل علم نے شطرنج، تاش وغیرہ کے کھیلوں کو بھی لغو شمار کیا ہے۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لغو کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لاَ یَعْنِیہِ ) [ رواہ ابن ماجۃ: باب کَفِّ اللِّسَانِ فِی الْفِتْنَۃِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کا بہترین اسلام یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔“ مسائل ١۔ مومن بے ہودہ باتوں اور بے مقصد کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن لغو اور اس سے بچنے کا حکم : ١۔ مومن لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ (المؤمنون : ٣) ٢۔ مومن جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور لغو باتوں میں ملّوث نہیں ہوتے۔ (الفرقان : ٧٢) ٣۔ جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔ (القصص : ٥٥) ٤۔ جنت میں لغو باتوں اور جھوٹ کا نام ونشان نہیں ہوگا۔ (النباء : ٣٥)