سورة الحج - آیت 63

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً ۗ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو زمین سر سبز ہوجاتی ہے۔ بے شک اللہ نہایت باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے معبودِبرحق ہونے کے مزید دلائل۔ معبودِ حق کی کبریائی اور علّو مرتب جاننا چاہو تو اس بات پر غور کرو کہ وہ آسمان سے کس طرح بارش نازل کرتا ہے جس سے ویران اور مردہ زمین سبزہ کی چادر پہن لیتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں اسی کی ملکیت ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی اور ہر چیز سے بے نیاز اور ہر حوالے سے قابل تعریف ہے۔ بارش اور زمین کی شادابی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین، باخبر اور ہر اعتبار سے غنی اور قابل تعریف ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے لطیف، خبیر زمین و آسمان کا مالک، غنی اور حمید کا حوالہ دے کر اپنے آپ کو معبود برحق ثابت کیا ہے اور مشرکوں کو یہ باور کروایا ہے کہ اس ذات کو چھوڑ کر غیروں کو پکارتے ہو ان میں اس قسم کی کوئی خوبی نہیں پائی جاتی۔ تو پھر انہیں مشکل کشا اور حاجت روا، داتا وغیرہ سمجھنے اور کہنے کا کیا جواز ہے ؟ یاد رکھو تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ مردہ زمین کو سر سبز و شاداب کردیتا ہے تو تمھاری موت کے بعد تمھیں زندہ کرنا اس کے لیے کس طرح مشکل ہے ؟ اس کے باوجود تم اس ذات کی پرواہ اور اس کی عبادت نہیں کرتے تو یقین جانو کہ وہ کسی کی عبادت کا محتاج اور تعریف کا طلبگار نہیں کیونکہ وہ ہر اعتبار سے بے نیاز اور لائق تعریف ہے۔ ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے مانگومیں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو! تمہارے تمام اگلے پچھلے‘ جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین فاسق وفاجر انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتا۔ میرے بندو! تمہارے اگلے پچھلے‘ جن وانس کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر آدمی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔“ [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بارش نازل نہیں کرسکتا۔ ٢۔ ” اللہ“ کے سوا کوئی زمین کو ہریالی نہیں دے سکتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لطیف وخبیر نہیں ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا حقیقی مالک ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے اس کے خزانوں میں کبھی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے فیصلے قابل تعریف ہیں زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ لائق تعریف ہے اور زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہے : ١۔ بے شک اللہ تعریف کے لائق اور بڑی شان والا ہے۔ (ھود : ٧٣) ٢۔ زمین و آسمان میں سبھی کچھ اللہ کا ہے اور اللہ تمام تعریفات کے لائق ہے۔ (النساء : ١٣١) ٣۔ اللہ قرآن مجید نازل کرنے والا، حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حم السجدۃ: ٤٢) ٤۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (الحشر : ١) ٥۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ: ١) ٦۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے روشنی اور اندہیروں کو پیدا کیا۔ (الانعام : ١) ٧۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت سے سر فراز فرمایا۔ ( الاعراف : ٤٣)