سورة الحج - آیت 56

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہوگی۔ اس دن نیک و بد کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عارضی طور پر دنیا میں کچھ اختیارات دیے ہیں۔ اسی بناء پر مختلف وقتوں اور علاقوں میں کچھ لوگوں کو اقتدار دیا جاتا ہے تاکہ دنیا کا نظام اجتماعی شکل میں چلتا رہے لیکن حقیقی بادشاہی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی کے تحت دنیا کا اقتدار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں دیتا ہے۔ جب قیامت برپا ہوگی تو پورے کا پورا نظام ختم کردیا جائے گا۔ ربِّ ذوالجلال کے سوا کسی کے پاس کچھ اختیار نہیں ہوگا اس دن اعلان ہوگا کہ آج صرف اللہ کے لیے بادشاہی ہے۔ ” اللہ“ صالح اعمال کرنے والے ایمانداروں کو نعمتوں والی جنت میں داخل کرے گا اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ” اللہ“ کی آیات کو جھٹلایا ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ وَیَطْوِی السَّمَاءَ بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ) [ رواہ البخاری باب قَوْلِہِ (وَالأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ کر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں کہاں ہیں زمین کے بادشاہ۔“ جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ یَّسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ عَامٍ لَایَقْطَعُھَا وَلَقَابُ قَوْسِ اَحَدِکُمْ فِیْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعََتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے‘ تب بھی اس سایہ ختم نہ ہو سکے گا اور یقیناً تم میں سے کسی ایک شخص کی جنّت میں کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے‘ جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔“ جہنم کا ایک منظر (وَعَنِ ابْنْ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُوؤتٰی بِجَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَّجُرُّوْنَھَا۔) [ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِہَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِینَ] حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے‘ جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔ مسائل ١۔ ایمان اور صالح اعمال آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ ٢۔ صالح اعمال کرنے والے ایمانداروں کو نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ٣۔ کفر و کذب اختیار کرنے والوں کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں کے انجام کا فرق : ١۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : ٧٣) ٢۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ: ٢٢) ٣۔ جہنمیوں کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (ہمزہ : ٩٠) ٤۔ جہنمیوں کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : ١٦) ٥۔ کھولتے ہوئے چشمے سے انھیں پانی پلایا جائے گا۔ (الغاشیۃ : ٥) ٦۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے سو پائیں گے۔ ( الانبیاء : ١٠٢) ٧۔ دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ ( یونس : ٢٧) ٨۔ ملائکہ جنتیوں کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : ٢٣۔ ٢٤)