سورة الأنبياء - آیت 83

وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ایوب، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک میں، مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : دو عظیم حکمران اور پیغمبروں کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیان۔ تذکرہ سیدنا ایوب (علیہ السلام) حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر مبارک چار سورتوں میں سورۃ النساء : ١٦٣ الانعام : ٨٤ الانبیاء : ٨٣ تا ٨٤ آ : ٤١ تا ٤٤ سورۂ نساء اور سورۃ انعام میں صرف ان کا اسم مبارک آیا ہے سورۃ الانبیاء اور ص میں مختصر طور پر بیان ہوا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) پر سخت آزمائش آئی۔ بیماری اور مصائب ومشکلات نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا تھا مگر وہ صبر وشکر کے سوا کوئی بات زبان پر نہیں لائے۔ اللہ کے حضور نہ صرف عبدیت کا اظہار کرتے رہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ رجوع الی اللہ میں اضافہ ہوا۔ ان کے بارے میں فرمایا : ” وہ بہت ہی اچھا بندہ اور ہماری طرف ہی رجوع کرنے والا تھا۔“ (آ : ٤٤) مولانا آزاد کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بنی یقطان کی نسل سے ہیں اور عربی نژاد ہیں۔ اس لیے یا تو ابراہیم (علیہ السلام) کے ہم زمانہ ہیں یا پھر حضرت اسحق اور حضرت یعقوب کے معاصر ہیں۔ محققین تورات کی اکثریت کا کہنا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) عرب تھے۔ عرب میں پیدا ہوئے اور تاریخ میں سفر ایوب کے نام سے جس کتاب کا تذکرہ پایا جاتا ہے وہ اصلاً قدیم عربی میں تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے عربی سے عبرانی میں منتقل کیا۔ سفر ایوب میں ہے کہ وہ شہر عوض ( مشرقی فلسطین) میں قیام پذیرتھے۔ ان کے مویشیوں پر سبا کے لوگوں نے حملہ کیا تھا۔“ امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں انبیاء کی ترتیب قائم فرمائی ہے اس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کیا گیا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر : وہ پاک باز انسان تھے اللہ تعالیٰ کے ہاں انبیاء کی جماعت میں شامل ہیں۔ دولت اور کثرت اہل وعیال کی وجہ سے بہت خوش بخت تھے مگر ایک آزمائش نے آلیا مال ومتاع، اہل وعیال، جسم وجان سب پر مصیبت آئی۔ مال ومتاع ختم ہوا اہل وعیال فوت ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی سخت بیماری نے آ لیا، شکوہ وشکایت کرنے کی بجائے اپنے رب کے حضور صبر وشکر کرتے رہے۔ (وَأَیُّوْبَ إِذْ نَادَیْ رَبَّہُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ) [ الانبیاء : ٨٣] ” اور اس وقت کو یاد کیجئے جب ایوب نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔“ دعا کا انداز اس قدر لطیف اور موّدب ہے کہ صرف اپنی تکلیف کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ کہہ کرچپ ہوجاتے ہیں نہ شکوہ کیا اور نہ کسی چیز کا مطالبہ کیا، ادب کا یہ عالم ہے کہ یہ نہیں کہا ” تو نے مصیبت میں ڈال دیا“ بلکہ بیماری کو شیطان کی جانب منسوب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں : ” شیطان نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔“ امام احمد (رض) نے کتاب الزہد میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت نقل کی ہے۔ ” حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے دور میں ایک بار شیطان طبیب کی شکل میں آپ کی بیوی کے پاس آیا۔ نیک بیوی نے علاج کرنے کے لیے کہا اس نے شرط رکھی کہ اگر تیرا خاوند صحت یاب ہوجائے تو میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا آپ نے میرے شوہر کو شفا دی ہے۔“ میرے علاج کا یہی معاوضہ ہے۔ بیوی نے وعدہ کرلیا بعدازاں اس کا ذکر ایوب (علیہ السلام) سے کیا ایوب (علیہ السلام) کو اس پر بہت غصہ آیا۔ فرمایا کہ وہ شیطان تھا جو غلط الفاظ تم سے کہلوانا چاہتا تھا اور تو نے کہنے کا وعدہ کرلیا۔ قسم کھائی کہ جب میں صحت یاب ہوجاؤں تو تجھے سو کوڑے ماروں گا۔ یاد رہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے وعدہ کیا تھا مگر یہ الفاظ نہیں کہے تھے۔ جب ایوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شفا دی تو قسم پوری کرنے کا سوال پیش آیا ایک طرف غم خوار اور خدمت گزار بیوی تھی دوسری طرف قسم پوری کرنے کا مسئلہ! حضرت ایوب (علیہ السلام) پریشان تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے نیک بیوی کو شوہر کے ساتھ وفاداری کا یہ صلہ دیا کہ حکم ہوا کہ آپ اپنی قسم نہ توڑیں بلکہ سو تنکوں کا ایک گٹھا بنائیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح قسم پوری ہوجائے گی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا۔“ (وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّہُ أَوَّابٌ) [ آ : ٤٤] ” اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مار اور اپنی قسم پوری کرو بیشک ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا بہت ہی عاجز بندہ ہر حال میں وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔“ حضرت ایوب کو حکم خداوندی : اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آہ وزاریوں کو قبول فرماتے ہوئے صحت کاملہ عطا فرمائی اور حکم دیا کہ اپنے پاؤں کو زمین پر ماریں جس سے ایک چشمہ جاری ہوگا۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کریں اور اسے پئیں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے چشمہ سے غسل کیا اور اس سے پانی پیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بھی بہتر صحت اور حسن وجمال عطا فرمایا۔ جس کا ذکر سورۃ صٓ کی آیت ٤٢ میں کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ بَیْنَمَا أَیُّوبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَجَعَلَ یَحْثِی فِی ثَوْبِہِ، فَنَادَی رَبُّہُ یَا أَیُّوبُ، أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی قَالَ بَلَی یَا رَبِّ، وَلَکِنْ لاَ غِنَی لِی عَنْ بَرَکَتِکَ) [ رواہ البخاری : کتاب الانبیاء] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا حضرت ایوب غسل فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سونے کی ٹڈیاں آسمان سے برسائیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں پکڑ پکڑ کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) سے استفسار فرمایا کہ ایوب! کیا ہم نے سب کچھ دے کر تجھے غنی نہیں کردیا؟ کہنے لگے کیوں نہیں لیکن میں تیری برکات سے لا پروا نہیں ہوسکتا۔“ تفسیر بالقرآن حضرت ایوب (علیہ السلام) کے فضائل : ١۔ حضرت ایوب کا تذکرہ قرآن مجید میں چار بار ہوا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کی طرف وحی نازل فرمائی۔ (النساء : ١٦٣) ٣۔ حضرت ایوب محسنین میں سے تھے۔ (الانعام : ٨٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کو اپنی رحمت سے نوازا۔ (الانبیاء : ٨٤) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت ایوب کو اہل و عیال اور مال و دولت سے نوازا۔ (ص : ٤٣) ٦۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ( ص : ٤٤)