سورة طه - آیت 131

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ نبی اکرم (ﷺ) کو تیسری تلقین۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (ﷺ) کو فطری اور طبعی طور پر مستغنی طبیعت پیدا فرمایا تھا۔ آپ (ﷺ) نے یتیمی اور انتہائی غربت کا دور دیکھا لیکن کسی کے سامنے دست سوال نہیں پھیلایا۔ نبوت کے دور میں بھی ایسے مواقع آئے کہ کئی کئی دن تک گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اس کے باوجود اپنے اور بیگانے سے کچھ مانگنا تو درکنار کبھی کسی سے اپنی تنگدستی کا اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا۔ اسی لیے مفسرین نے اس آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ آپ کو ان الفاظ سے مخاطب کرنے کا معنٰییہ ہے کہ آپ مالدار طبقے کے بارے میں ایک حد سے زیادہ امید نہ رکھیں کہ یہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انواع و اقسام کی نعمتیں اور دنیا کی زیب و زینت اس لیے دی ہے تاکہ ان کو اچھی طرح آزمایا جائے۔ تیرے رب کا بہتر اور حقیقی رزق وہ ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ عام طور پر رزق کا معنٰیکھانے پینے والی چیز لیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا فرمائی ہے۔ یہاں ” رِزْقُ رَبِّک“ کے الفاظ استعمال فرما کر آپ (ﷺ) کو اور آپ کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے کہ حقیقی رزق وہ ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت میں اپنے بندوں کو عنایت فرمائے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُول اللَّہ یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُول اللَّہِ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ﴾ فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا) [ رواہ الترمذی : باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ ] ” حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ بریدہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم (ﷺ) ہم کو واعظ کر رہے تھے اچانک حسن اور حسین (رض) آئے انہوں نے چھوٹی چھوٹی سرخ قمیض پہن رکھی تھیں وہ چلتے ہوئے گر رہے تھے۔ نبی اکرم (ﷺ) منبر سے نیچے اترے اور ان کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر فرمایا۔ اللہ نے سچ کہا ہے (کہ بے شک تمہارے مال واولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں) میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ وہ گرتے گراتے آرہے تھے تو میں ضبط نہ کرسکا میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا۔“ (عَنْ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِی ِّ قَالَ کَان بالْکُوفَۃِ أَمِیرٌ قَالَ فَخَطَبَ یَوْماً فَقَالَ إِنَّ فِی إِعْطَاءِ ہَذَا الْمَالِ فِتْنَۃً وَفِی إِمْسَاکِہِ فِتْنَۃً وَبِذَلِکَ قَامَ بِہِ رَسُول اللَّہِ () فِی خُطْبَتِہِ حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ) [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن الشخیر] ” مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے وہ نبی اکرم (ﷺ) کے ایک صحابی کے بارے میں بیان کرتے ہیں جو کوفہ میں امیر تھے انہوں نے ایک دن اپنے خطبے میں کہا کہ مال کے عطا کیے جانے میں بھی فتنہ ہے اور اس کے روک لیے جانے میں بھی فتنہ ہے اسی بات کو بیان کرنے کے لیے نبی اکرم (ﷺ) منبر پر چڑھے اور بیان کرنے کے بعد نیچے اتر آئے۔“ (روک لیے جانے سے مراد غربت ہے جو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے۔) مسائل: 1۔ دنیا داروں کے مال و دولت کو للچائی آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ 2۔ دنیا کا مال ہر انسان بالخصوص کافر کے لیے بڑی آزمائش ہے۔ 3۔ حقیقی اور ہمیشہ رہنے والا رزق جنت کی نعمتیں ہیں۔ تفسیر بالقرآن: مال اور اولاد آزمائش ہیں : 1۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف :46) 2۔ مال اور اولاد تمھارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن :15) 3۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن :15) 4۔ یقیناً مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں اور اللہ کے ہاں ہی بہتر اجر ہے۔ ( الانفال :28) 5۔ اے ایمان والو! تمہیں تمہارے مال اور اولاد ہلاکت میں مبتلا نہ کردیں۔ ( المنافقون :9)