سورة طه - آیت 122

ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اس پر توجہ فرمائی اور ہدایت دی۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم کے بارے میں گفتگو جاری ہے چنانچہ حضرت حوا [ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوجانے کے باوجود انھیں زمین پر اتر جانے کا حکم۔ پہلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو شیطان نے ورغلایا تھا مگر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور توبہ کی اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کی اور اپنی ہدایت سے نوازا۔ حضرت حوا [، حضرت آدم (علیہ السلام) کے ماتحت تھیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے خطا کروانے والا ابلیس تھا۔ اس لیے تینوں کو حکم ہوا کہ تم زمین پر اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ تاہم آدم (علیہ السلام) کو فرمایا کہ جب تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے جس نے میری ہدایت کی پیروی کی نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ ہی قیامت کے دن اسے کوئی تکلیف پہنچے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری توبہ قبول ہوئی لیکن آسمان سے اترنا تمہارا یقینی ہے لہٰذا جنت سے نکل جاؤ اور تم زمین پر جا کر شیطان کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی کوشش کرو۔ یاد رکھنا تمہارا زمین پر جانے کا یہ معنٰی نہیں کہ تم شتر بے مہار کی طرح جدھر چاہو نکل کھڑے ہو بلکہ تمہیں ایک دستور حیات اور مسلسل ہدایات دی جائیں گی۔ جس نے اس نصیحت اور دستور حیات سے منہ پھیرلیا اس کے لیے اس کی زندگی تنگ کر دوں گا اور اسے قیامت کے دن