سورة طه - آیت 90

وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بلاشبہ یقیناً ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم! بات یہی ہے کہ اس کے ساتھ تمھاری آزمائش کی گئی ہے اور یقیناً تمھارا رب رحمان ہی ہے، سو میرے پیچھے چلو اور میرا حکم مانو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے جھوٹے معبود کی حقیقت بتلانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تلخی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم اور ان کے نمائندوں کو انتباہ کرنے کے بعد فارغ ہوئے تو انھوں نے توحید کی غیرت میں آکر اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا اے ہارون ! جب یہ لوگ آپ کے سامنے شرک کر رہے تھے تو آپ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ ان کو شرک کرنے سے نہ روکے اور تجھے کون سی رکاوٹ پیش آئی کہ نیابت کرنے کی بجائے میری نافرمانی کرے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے مادر زاد بھائی ! میری داڑھی اور سر کے بال چھوڑ کر میری بات سنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس بات سے ڈر گیا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ میں نے آپ کا انتظار کرنے کی بجائے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ پیدا کردیا ہے۔ میں نے اپنی حد تک انھیں بچھڑے کی پوجا سے بہت روکا مگر یہ رکنے کی بجائے اور زیادہ بڑھ گئے۔ قریب تھا کہ یہ مجھے جان سے مار ڈالتے۔ لہٰذا آپ یہ انداز اختیار کرکے مجھے ظالموں کے ساتھ شریک نہ کریں اور نہ ہی دشمنوں کو مجھ پر خوش ہونے کا موقع دیں۔ بعض لوگوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے اس فرمان کہ میں اس بات سے ڈر گیا کہ قوم میں تفرقہ پیدا نہ ہو سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ قوم کے اتحاد کی خاطر کچھ عرصہ کے لیے شرک بھی گوارا کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایسا استدلال ہے کہ جس سے پورے دین کی بنیاد منہدم اور نبوت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) کی تشریف آوری کا مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید کا ابلاغ کرنا اور لوگوں کو شرک سے روکنا تھا اسی لیے قرآن مجید میں اتحاد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے : کہ اللہ کی رسّی کے ساتھ چمٹے رہو گویا توحید ہی اتحاد کی بنیاد ہے۔ سب کے سب انبیاء ( علیہ السلام) اسی غرض کے لیے مبعوث کیے گئے اور یہی انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں کا بنیادی اختلاف تھا۔ (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُوْلٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الانبیاء : ٢٥] ” اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر یہ کہ ہم نے وحی بھیجی اس کی طرف کہ بلاشبہ نہیں ہے کوئی الٰہ نہیں میرے سوا بس میری عبادت کیا کرو۔“ یہاں تفرقہ سے مراد عام قسم کے اختلافات اور فرقہ بندی نہیں بلکہ قتل و غارت ہے۔ جس سے حضرت ہارون (علیہ السلام) خوفزدہ ہوئے اور انھوں نے سوچا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چند دنوں کے لیے کوہ طور سے واپس آجائیں گے۔ جونہی واپس تشریف لائیں گے تو ہم مل کر ان لوگوں کو شرک سے روکیں گے۔ چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا کہ اے میری قوم ! تمھارا بچھڑے کو معبود بنانا بہت بڑا ظلم ہے۔ جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو۔ تمھارے لیے تمھارے رب کے ہاں یہی توبہ ہے۔ اس پر عمل کرو یہی تمھارے رب کے نزدیک بہتر ہے۔ (البقرۃ: ٥٤)