سورة مريم - آیت 97

فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کردیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نزول قرآن کا مقصد، متقین کو خوشخبری سنانا اور مجرمین کو ان کے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔ قرآن مجید میں بار ہا دفعہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہی قرآن مجید کی دعوت اور اس میں بیان ہونے والے واقعات کا مدّعا ہے کہ لوگوں کے سامنے متقین کا عقیدہ اور کردار بیان کیا جائے ان کے مقابلہ میں کفار اور مشرکین کا عقیدہ کردار اور ان کا انجام ذکر کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ لوگ اپنے برے عقیدہ اور گھناؤنے کردار سے باز آئیں۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا ان میں بڑی بڑی اقوام کو اس طرح تہس نہس کیا کہ آج دیکھنے والا کوئی ان کا نشان، آہٹ اور بھنک نہیں پا سکتا ان کی بستیاں اور قبریں زبان حال سے بول بول کر یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اے دنیا میں رہنے والو! اقتدار، اختیار اور کسی گھمنڈ میں آکر اپنے رب کی نافرمانی نہ کرنا اگر تمھیں کسی بات پرناز ہے تو ہمارے حال کو نگاہ عبرت سے دیکھو۔ (فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ) [ الحشر : ٢] ” اے عقل والوں نگاہ عبرت سے دیکھو۔“ (عَنْ أَبِیْٓ أُمَامَۃَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، یَقُوْلُ إِذَا مَرَرْتُمْ عَلٰی أَرْضٍ قَدْ أُہْلِکَ أَہْلُہَا فَاعْدُوا السَّیْرَ) [ رواہ الطبرانی فی الکبیروہو حدیث صحیح ] ” حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے جب تم ایسی زمین سے گزرو جس کے بسنے والوں کو ہلاک کیا گیا ہو تو وہاں سے جلدی گزر جایا کرو۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس لیے قرآن نازل کیا تاکہ نیک لوگوں کو خوشخبری دی جائے۔ ٢۔ قرآن مجید کے نازل کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ حق بات ٹھکرانے والوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے جن اقوام کو تباہ و برباد کیا آج ان کی کوئی بھنک بھی نہیں پاتا۔