سورة مريم - آیت 64

وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۖ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم کے ساتھ۔ اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب کبھی بھولنے والا نہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز مکہ معظمہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تن تنہا کفار اور مشرکین کا مقابلہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر اور حضرت حمزہ کے اسلام لانے سے پہلے جتنے لوگ مسلمان ہوئے تھے وہ شخصی قوت کے لحاظ سے انتہائی کمزور تھے دوسری طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے پشتی بان جناب ابو طالب بھی دنیا سے چل بسے تھے۔ گھریلو حالات یہ تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غم خوار بیوی حضرت خدیجہ (رض) بھی داغ مفارقت دے چکی تھیں۔ ان حالات میں ایک انسان ہونے کے ناطے سے آپ کا دل پسیج جاتا۔ جس پر اللہ تعالیٰ جبرئیل امین (علیہ السلام) کو بھیج کر تسلی دیتے۔ جب کبھی جبرئیل امین (علیہ السلام) کی آمد کا وقفہ زیادہ ہوجاتا تو آپ انتہائی رنجیدہ ہوجاتے تھے۔ ایسی ہی صورت حال میں ایک دن آپ نے جبرئیل امین (علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ جلدی تشریف لا یا کریں۔ جس کے جواب میں جبرئیل امین نے عرض کی کہ ” اے محبوب خدا ! ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتے۔“ جو کچھ ہمارے آگے اور جو ہمارے پیچھے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یعنی زمین کا زرّہ، زرّہ آسمانوں کا چپہ، چپہ اور جو کچھ ان میں ہے اور تمام ملائکہ آپ کے رب کے غلام اور سب کچھ ” رب“ کے اختیار میں ہے۔ آپ کا رب کوئی بات بھی بھولنے والا نہیں۔ آیت کے آخری الفاظ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حالات سے غافل اور کوئی بات بھول جانے والا ہے۔ اسی بات کو قدرے تفصیل کے ساتھ گیا رہویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” اور نہیں ہوتے آپ کسی حالت میں اور نہ اس کی طرف سے آنے والے قرآن میں سے کچھ تلاوت کرتے ہیں اور نہ آپ کوئی عمل کرتے ہیں مگر ہم آپ پر گواہ ہوتے ہیں،۔ تیرے رب سے کوئی ذرہ بھر چیز نہ زمین میں پوشیدہ ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی مگر واضح کتاب میں موجود ہے۔“ (یونس : ٦١) ” وہ تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو۔ اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل وحرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔“ [ الشعراء : ٢١٨ تا ٢٢٠] (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا ماذَا قَالَ رَبُّکُمْ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‘ اللہ تعالیٰ جب آسمان پر کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اللہ کے حکم کے ڈر کی وجہ سے فرشتوں کے پروں میں آواز پیدا ہوتی ہے جیسے صاف پتھر پر لوہے کی زنجیر کھنچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دورہوتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں‘ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ اوپر والے ملائکہ اللہ کے ارشاد کو بیان کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ ہے اللہ کا ارشاد ہے جو بلند وبالا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی فرشتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ ٢۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز اوجھل نہیں اور نہ ہی اس کے علم سے کوئی بات فراموش ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کو ہر بات اور اس پر قدرت رکھنے والا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ: ٢٠) ٢۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : ٢٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہے۔ ( الحدید : ٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ آسمانون و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ( المجادلۃ: ٧) ٥۔ اللہ تعالیٰ حاضر اور غیب کو جاننے والا ہے۔ ( الرعد : ٩) ٦۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ١٤٨) ٧۔ اللہ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ٢٨٤)