سورة البقرة - آیت 223

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لیے آگے (سامان) بھیجو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ یقیناً تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ چونکہ پہلے حکم میں مخصوص ایّام کے دوران عورتوں سے صحبت کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس لیے یہاں طبیعتوں کی گھٹن دور کرنے اور ازدواجی زندگی کے بنیادی مقصد کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ جس طرح کھیتی باڑی کے کچھ اصول اور ہر فصل کے مخصوص ایّام ہوتے ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی کے مقاصد اور خلوت کے بھی کچھ اصول ہیں۔ تاہم جس طرح زمیند ار کو اپنی زمین اور کھیتی باڑی میں کھلا اختیار ہوتا ہے ایسے ہی تمہیں اپنی بیویوں کے بارے میں اختیارات حاصل ہیں کہ جب اور جس طرح چاہو مجامعت کرسکتے ہو۔ یہاں ازدواجی زندگی کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دے کر واضح کیا جارہا ہے کہ جس طرح کوئی زمیندار بے مقصد ہل نہیں چلایا کرتا بلکہ اس کے پیش نظر اناج کی شکل میں اپنی محنت کا صلہ ہوتا ہے اسی طرح محض شہوت رانی کی غرض سے یہ کام نہیں ہونا چاہیے۔ میاں بیوی کے اس عمل اور جذبات میں اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھنا، اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہونا اور نیک اولاد کی تمنا شامل ہونی چاہیے تاکہ دنیاوی فوائد کے ساتھ آخرت میں اس چیز کا اجر ملے۔ جیسے زمیندار اپنے اور قوم کے لیے غلہ مہیا کرتا ہے ایسے ہی ازدواجی تعلقات کے ذریعے نسل کا تسلسل، قوم کی بقاء اور دین اسلام کے لیے اچھے مسلمان تیار کرنا ہے۔ جس طرح زمیندار اپنی زمین اور فصل کا خیال اور خدمت کرتا ہے۔ تمہیں اپنی بیویوں اور اولاد کا اس سے بڑھ کر خیال اور ان کی خدمت کرنا چاہیے۔ اس میں بیوی کی صحت، گھریلو مصروفیات، عبادات اور بچے کا پورے دو سال دودھ پلانے کا اشارہ بھی شامل ہے۔ اگر میاں بیوی ان امور کا خیال کریں تو انہیں تولید میں وقفہ کے لیے کسی غیر شرعی طریقہ کی حاجت نہیں رہتی۔ آج کے مصنوعی طریقے صحت کے لیے مضر ہیں۔ یہ بات ذہن میں ہر دم تازہ رکھو کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہو اور وہ تمہاری جلوتوں اور خلوتوں کو جانتا ہے۔ تمہاری پوشیدہ اور ظاہری زندگی اس طرح ہونی چاہیے کہ اپنے رب کے ہاں تمہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ جو جلوت اور خلوت میں اس بات کا خیال رکھے گا ایسے صاحب ایمان لوگوں کے لیے مسرّت وشادمانی کا پیغام ہے۔ ازدواجی زندگی کے بارے میں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات : (عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ (رض) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّیْ أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسْبٍ وَّجَمَالٍ وَّإِنَّھَالَاتَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُھَا قَالَ لَا ثُمَّ اَتَاہ الثَّانِیَۃَ فَنَھَاہُ ثُمَّ اَتَاہ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء] ” حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا ایک عورت حسب ونسب اور حسن و جمال والی ہے لیکن ہے وہ بانجھ۔ کیا میں اس سے شادی کرلوں ؟ آپ نے اسے روک دیا۔ دوسری اور تیسری مرتبہ آنے پر بھی منع کرتے ہوئے فرمایا محبت کرنے اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت تعداد کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔“ (عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ السُّلَمِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ أَھْلَہٗ فَلْیَسْتَتِرْ وَلَا یَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَیْرَیْنِ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع] ” حضرت عتبہ بن عبدالسلمی (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کرے تو وہ پردہ کرے اور گدھوں کی طرح ننگا نہ ہو۔“ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے اس کی دبر کی جگہ جماع کرتا ہے۔“ [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح ] (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدنٍ الْخُدْرِیّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلُ یُفْضِیْ إِلَی امْرَأَتِہٖ وَتُفْضِیْ إِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّھَا)[ رواہ مسلم : کتاب النکاح، باب تحریم إفشاء سر] ” حضرت ابوسعید خدری (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن بدترین شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی سے ملتا ہے اور بیوی اپنے خاوند سے ملتی ہے اور پھر وہ اس کے راز فاش کرتا ہے۔“ مسائل ١۔ بیویاں خاوندوں کے لیے کھیتیوں کی مانند ہیں۔ ٢۔ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے کیونکہ بالآ خر اس سے ملاقات ہونا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبریاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن بیوی کی حیثیت : ١۔ بیوی لباس ہے۔ (البقرۃ: ١٨٧) ٢۔ بیوی نسل انسانی کا ذریعہ ہے۔ (النساء : ١) ٣۔ بیوی سکون کا باعث ہے۔ (الروم : ٢١) ٤۔ بیوی خاوند کی نائب ہے۔ (النساء : ٣٤)