سورة البقرة - آیت 15

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے اور انھیں ڈھیل دے رہا ہے، اپنی سرکشی ہی میں حیران پھرتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقت اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ یہاں منافقین کے کردار کے بارے میں لفظ طغیان استعمال کیا ہے جو ایک محاورہ بھی ہے کہ دریا میں طغیانی ہے۔ یعنی دریا اپنی حد سے آگے بڑھ گیا ہے۔ یہی حالت گناہ کے وقت انسان کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی فطرت سلیم سے آگے بڑھ کر گناہ کرتا ہے۔ مذاق کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے لیکن منافقوں پر ناراضگی اور مومنوں سے مذاق کرنے کی وجہ سے منافقوں کے مذاق کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرما رہا ہے۔ کیونکہ مومنوں کو اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے مذاق نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو وسیع ترین تناظر میں یوں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان جنگ : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إنَّّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ أَحَبَّ إِلیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہٗ فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یَبْصُرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَا وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَإِنْ سَأَلَنِیْ لَأُعْطِیَنَّہٗ وَلَءِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُّ عَنْ شَیْءٍ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِیْ عَنْ نَّفْسِ المُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَاءَ تَہٗ) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب التواضع ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ میں نے جو چیزبندے پر فرض کی اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے۔ بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب میں اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتاہوں‘ اگر مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتاہوں۔ میں اپنے کسی کام میں اتنا تردُّد نہیں کرتاجتنا ایک مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں کیونکہ بندہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کی تکلیف اچھی نہیں لگتی جس نے ولی کو تکلیف دی۔“ کوئی مجرم اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں ہوسکتا اس کے باوجود اس نے منافق کو دین اور دین داروں کے ساتھ مذاق کرنے کی مہلت دے رکھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے۔ سخت ناراضگی کے اظہار کے طور پر مذاق کا لفظ ذات کبریا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے جب ان کے لیڈر سازشوں کے بے نقاب ہونے کے خوف سے ان کو روکتے ہیں۔ تو ان کے چیلے چانٹے یہ کہہ کر ان کو مطمئن کرتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کو مذاق کے طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اس عیاری اور چالاکی کی وجہ سے ان کی عقل پر پردہ پڑچکا ہے۔ یہ جھوٹ، سازش اور منافقت کے پردہ چاک ہونے کے خوف سے دل ہی دل میں پریشان رہتے ہیں اور ایسی باتوں اور ساتھیوں پر خوش ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے! گناہ کا نقصان صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ذلّت اور آخرت میں سزا ہوگی بلکہ گناہ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل گناہ کی وجہ سے پریشان رہتا اور گناہ سے آدمی کی طبیعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گناہ گار ضمیر کا چور اور بزدل ہوجاتا ہے۔ جبکہ نیکی میں اطمینان ہے اور گناہ میں پریشانی۔ کبھی جرائم پیشہ اور بد کا رکو ٹٹول کر دیکھو بظاہر ہشاش بشاش نظر آنے کے باوجودوہ کس طرح پریشان ہوتا ہے۔ قرآن مجید اسی قلبی اضطراب کا ذکر کر رہا ہے کہ وہ اپنے نفس کی طغیانیوں اور نافرمانیوں میں پریشان رہتے ہیں۔ نفسیات کے معلّم اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گناہ کی تعریف اس طرح فرمائی ہے : (اَلْإِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تفسیر البر والإثم) ” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کا علم ہونا تجھے ناگوار محسوس ہو۔“ مسائل ١۔ منافق کو روز قیامت استہزا کی سزا دی جائے گی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ منافق اور کافر کو دنیا میں ڈھیل دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن استہزا اور اس کی سزا : ١۔ انبیاء کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ (الزخرف : ٧) ٢۔ اللہ اور اس کی آیات سے مذاق کیا گیا۔ (التوبۃ: ٦٥) ٣۔ نماز کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ ( المائدۃ: ٥٨) ٤۔ کفار نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استہزا کیا۔ ( الأنبیاء : ٣٦) ٥۔ استہزا کرنے والوں کو رسوا کن عذاب ہوگا۔ ( الجاثیۃ: ٩) ٦۔ اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ۔ ( البقرۃ: ٢٣١) ٧۔ اللہ کی آیات اور انبیاء سے مذاق کی سزا جہنم ہے۔ ( الکہف : ١٠٦) ٨۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ سے مذاق کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔ ٩۔ جہاں اللہ کی آیات سے مذاق کیا جائے وہاں نہ بیٹھو۔ ( النساء : ١٤٠)