سورة الكهف - آیت 103

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: (آیت 103 سے 104) ربط کلام : مشرکین کے اعمال کی دنیا اور آخرت میں حیثیت۔ اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے ساتھ اس قدر نفرت ہے کہ انھیں براہ راست مخاطب کرنے کی بجائے رسول معظم (ﷺ) کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ استفسار کرنے کی صورت میں انہیں بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے بندوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھنے والو! کیا میں تمھیں یہ نہ بتلاؤں کہ فکر و عمل کے اعتبار سے کون لوگ سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔ ہاں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دنیا اور آخرت میں تمام اعمال ضائع ہوئے حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے نیکی کے کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جو ہمیں اچھی شہرت اور مال و اسباب دیے گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر راضی ہے۔ یہ وہ بات ہے جو کافر، مشرک، حرام خو اور باغی انسان اپنی زبان سے اکثر کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ کا بڑا ہی فضل و کرم ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ فراوانی اس لیے عنایت کی ہوتی ہے تاکہ یہ لوگ کھل کر برے اعمال کرسکیں۔ دنیا میں ان کے اعمال ضائع ہونے کا یہ بھی ایک مفہوم ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، مشرک کو ان کے اچھے اعمال کا قیامت کے دن کوئی صلہ نہیں ملے گا کیونکہ ان کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں تھا۔ جس طرح دنیا کی ہر چیز بالآخر فنا ہوجائے گی اسی طرح ہی ان کے اعمال اس دنیا میں ہی مٹ جائیں گے۔ یعنی ان کا نیکی کے حوالے سے ذکر خیر کرنے والا کوئی نہیں ہوگا یہی وجہ ہے کہ جن غیر مسلموں نے کار خیر کے جو کام کیے ان کا ذکر نیکی کے طور پر نہیں بلکہ محض یاد گار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بظاہر نیکی کے کام کرتے ہیں لیکن ان کے اعمال سنت رسول (ﷺ) سے ثابت نہیں ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتلایا گیا ہے۔ ﴿عَامِلَۃٌ نَاصِبَۃٌ۔ تَصْلَی نَارًا حَامِیَۃً [ الغاشیہ : 3۔4] ” سخت محنت کرنے والے تھکے ہوں گے۔ لیکن دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔“ (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہُ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ إِنَّہٗ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول (ﷺ) ! ابن جدعان زمانہء جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اس کو اس کے اعمال کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا نہیں، کیونکہ اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطائیں معاف کرنا۔“ گویا کہ وہ آخرت کا منکر تھا۔ (عَنْ عَائِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) [ رواہ مسلم : باب نَقْضِ الأَحْکَامِ الْبَاطِلَۃِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول محترم (ﷺ) نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئی بات ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے وہ ردّ کردی جائے گی۔“ (عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ) [ رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ] ” حضرت حذیفۃ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ بدعتی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔“ مسائل: 1۔ بعض لوگوں کے دنیا اور آخرت میں اعمال ضائع کردیے جاتے ہیں۔ 2۔ جن کے دنیا اور آخرت میں اعمال ضائع ہوئے وہ بڑا ہی نقصان پائیں گے۔ 3۔ بد قسمت ہے وہ انسان جو برائی کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔