سورة الإسراء - آیت 79

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : ربط کلام : فرض نماز کے بعد تہجد کی تلقین۔ عبادات میں سب سے افضل عبادت فرض نماز ہے۔ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ جسے نفل نماز قرار دیا گیا ہے۔ نفل کا معنیٰ ہوتا ہے ” زائد چیز“۔ رسول محترم نے نوافل کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فرض نماز کی کمی، بیشی نفل نماز سے پوری کی جائے گی۔ بعض اہل علم کے نزدیک پہلے آپ (ﷺ) پر تہجد فرض تھی۔ بعد ازاں اسے نفل قرار دے دیا گیا۔ تہجد کا لفظ ” جہد“ سے نکلاہے۔ جس کا مطلب ہے ” نیند کے بعد بیدار ہونا“ ظاہر ہے یہ کام ہمت اور کوشش کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ اہل علم ضروری سمجھتے ہیں کہ تہجدکچھ دیر سونے کے بعداٹھ کر پڑھنی چاہیے۔ ان کے بقول سونے سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل تہجد شمار نہیں ہوتے۔ لیکن احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی اپنی صحت اور فرصت کے پیش نظر رات کے کسی پہر میں تہجد پڑھ سکتا ہے۔ البتہ تہجد کے لیے افضل ترین وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان کے لیے ایسا وقت ہے کہ لیل و نہار کا کوئی لمحہ ان لمحات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ زمین و آسمان کی وسعتیں نورانی کیفیت سے لبریز دکھائی دیتی ہیں۔ ہر طرف سکون و سکوت انسان کی فکر و نظر کو جلابخشنے کے ساتھ خالق حقیقی کی طرف متوجہ کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف رات اپنے سیاہ فام دامن میں ہر ذی روح کو سلائے ہوئے ہے اور دوسری طرف بندۂ مومن اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے کروٹیں بدلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ کہیں نیند کی غفلت میں پرنور لمحات گذرنہ جائیں۔ وہ ٹھنڈی راتوں میں یخ پانی سے وضو کرکے رات کی تاریکیوں میں لرزتے ہوئے وجود اور کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ شکر و حمد اور فقر و حاجت کے جذبات میں زار و قطار روتا ہوا فریاد کناں ہوتا ہے۔ وہ آنسوؤں کے پانی سے اس طرح اپنی ردائے حیات کو دھو ڈالتا ہے کہ اس کا دامن گناہوں کی آلودگی سے پاک اور وجود دنیا کی تھکن سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ طویل ترین قیام اور دیر تک رکوع وسجود میں پڑارہنے سے تہجد بندۂ مومن کو ذہنی اور جسمانی طور پر طاقت و توانائی سے ہمکنار کردیتی ہے۔ اگر وہ خورد و نوش میں مسنون طریقوں کو اپنائے تو اس کو کسی قسم کی سیر و سیاحت حتیٰ کہ معمولی ورزش کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ تہجد گزار بندوں کی اس طرح تعریف فرماتا ہے۔ ﴿تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ﴾ [ السجدۃ:16] ” وہ اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔“ ﴿عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآء الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَأسْتَجِیْبَ لَہُ مَنْ یَسْاَلنِیْ فأُعْطِیَہٗ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرَلَہُ﴾ [ رواہ البخاری : باب التحریض علی قیام الیل] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتے ہیں : کون ہے مجھ سے طلب کرنے والا میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اسکوبخش دوں۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) یَرْفَعُہُ قَالَ سُئِلَ أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ وَأَیُّ الصِّیَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَفْضَلُ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ الصَّلاَۃُ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ وَأَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ صِیَامُ شَہْرِ اللَّہِ الْمُحَرَّمِ )[ رواہ مسلم : کتاب الصیام، باب فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے اور وہ آپ (ﷺ) سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) سے سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے اور رمضان کے روزوں کے بعد کون سے روزے افضل ہیں۔ آپ نے فرمایا فرض نمازوں کے بعد افضل نماز آدھی رات کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے اور رمضان کے روزوں کے بعد افضل روزہ ماہ محرم کا روزہ ہے۔“ (عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُول اللَّہِ () فِی رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ رَسُول اللَّہِ () یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِہِ عَلَی إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ یَا عَائِشَۃُ، إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی )[ رواہ البخاری : کتاب التہجد] ” حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ آپ کی رمضان میں نماز کیسی ہوتی تھی ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ آپ پہلے چار کعات پڑھتے تو ان کے حسن اور طوالت کے متعلق مت پوچھ۔ پھر آپ چار رکعات پڑھتے تو ان کے اچھے اور طویل ہونے کے بارے میں نہ پوچھ پھر آپ تین رکعات پڑھتے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوجا تے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ! یقیناً میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔“ آپ (ﷺ) کی تہجد کی کیفیت : (عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ () یُصَلِّیْ فِیْمَا بَیْنَ اَنْ یَّفْرُغَ مِنْ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ اِلَی الْفَجْرِ اِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ مِنْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُؤْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ فیَسْجُدُ السَّجْدَۃَ مِنْ ذَالِکَ قَدْرَ مَا یَقْرَاُ اَحَدُکُمْ خَمْسِیْنَ اٰیَۃً قَبْلَ اَنْ یَّرْفَعَ رَاْسَہُ فَاِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَتَبَیَّنَ لَہُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَیْمَنِ حَتّٰی یَأْتِیَہُ الْمُؤَذِّنُ لِلْاِقَامَۃِ فَیَخْرُجُ)[ رواہ البخاری : باب ایذان المؤذنین الائمۃ الصلٰوۃ] ” حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی معظم (ﷺ) عشاء کی نماز کے بعد اور فجر سے پہلے گیارہ رکعت ادا کیا کرتے تھے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک وتر ادا کرتے۔ اس قدر لمباسجدہ کرتے کہ اس دورانیہ میں اگر تم میں سے کوئی پچاس آیات کی تلاوت کرنا چاہے تو کرسکتا تھا۔ جب مؤذن فجر کی اذان کہتا اور صبح نمایاں ہوجاتی آپ مختصر دورکعتیں ادا کرتے اور پھر دائیں جانب چند لمحے لیٹ جاتے پھر مؤذن نماز کی اطلاع کرتا۔ آپ (ﷺ) گھر سے تشریف لے جاتے۔“ مسائل: 1۔ آپ (ﷺ) کو نماز تہجد ادا کرنے کا حکم تھا۔ 2۔ تہجد آپ (ﷺ) کے لیے نفل بنا دی گئی۔ 3۔ آپ (ﷺ) کے ساتھ مقام محمود کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن: اللہ تعالیٰ کے آپ (ﷺ) کے ساتھ وعدے : 1۔ قریب ہے کہ اللہ آپ کو مقام محمود میں داخل فرمائے۔ (بنی اسرائیل :79) 2۔ عنقریب تیرا رب تجھے وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ ( الضحیٰ :5)