سورة الإسراء - آیت 78

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

نماز قائم کر سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کا قرآن (پڑھ)۔ بے شک فجر کا قرآن ہمیشہ سے حاضر ہونے کا وقت رہا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مشکل کے وقت نماز کی اہمیت اور اس کا فائدہ : جب بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پریشانی اور مشکلات کا ذکر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ذکر اور نماز کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ کیونکہ ذکر اور نماز قائم کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشکلات کے ذکر کے بعد حکم ہوا ہے۔ کہ آپ سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی نماز قائم کریں اور رات کے اندھیرے میں بھی نماز پڑھیں اور فجر کے وقت قرآن کی تلاوت کریں۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کی غالب اکثریت نے ثابت کیا ہے کہ اس آیت سے تین نمازیں پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ قرآن مجید میں نماز پڑھنے کی بجائے قائم کرنے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد اس کے ظاہری آداب و شرائط بجا لانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور روحانی فوائد کا حصول ہے۔ اس لیے یہاں صرف ” صَلُّوْا“ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ” اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ“ کا جامع لفظ استعمال فرما کر واضح کیا گیا ہے کہ نماز پڑھنے اور ادا کرنے کے لحاظ سے جامع اور مکمل ہونی چاہیے۔ اس میں طہارت، ارکان کی صحیح ادائیگی، اخلاص اور جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم شامل ہے۔ اس طرح یہ پانچ وقت کا اجتماعی عمل ہے۔ ” اَقِیْمُوْاالدِّیْنَ“ (الشورٰی : 13) کا لفظ پورے دین کے لیے بھی استعمال ہوا۔ جس طرح دین کا تقاضا صرف اس کے احکامات پڑھ لینے سے پورا نہیں ہوتا جب تک اسے پورے طور پر نافذ نہ کیا جائے ایسے ہی نماز پوری جامعیت کے ساتھ اس وقت قائم ہوگی جب اس کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ نمازی کو حکم ہے کہ نماز میں نظر کو ادھر ادھر نہ اٹھائے۔ یہی حکم نماز کے بعد ہے کہ چلتے پھرتے اپنی نگاہوں کو نیچے رکھا کریں۔ تشہد میں نمازی درود اور التحیات میں سب کی سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے نماز سے فارغ ہوتے ہوئے بھی دائیں بائیں السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے۔ یہی جذبہ اور انداز نماز کے بعد بھی اختیار کرنا چاہیے۔ گویا کہ نماز اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیان تعلق قائم رکھنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ نماز میں اس قدر انہماک اور تعلق باللہ قائم ہونا چاہیے جیسے بندہ اپنے رب کی زیارت کر رہا ہو۔ ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیت اللہ کے قریب جبرائیل (علیہ السلام) نے دو دفعہ میری امامت کروائی۔ اس نے میرے ساتھ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج تھوڑا ساڈھل گیا اور اس کا سایہ تسمے کے برابر ہوگیا۔ پھر اس نے میرے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوا۔ مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر میرے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب سورج کی سرخی غائب ہوگئی اور فجر کی نماز میرے ساتھ اس وقت پڑھی جب روزہ دار پر کھانا، پینا حرام ہوجاتا ہے۔ پھر اگلا دن آیا تو میرے ساتھ ظہرکی نماز پڑھی اس وقت جب ہر شے کا سایہ اس کے برابر ہوگیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر شے کا سایہ اس سے دوگناہو گیا اور مغرب کی نماز اس وقت میرے ساتھ پڑھی جب رو زہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر عشاء کی نماز رات کے تہائی حصے میں ادا کی اور فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب صبح خوب روشن ہوگئی پھر میری طرف متوجہ ہو کر جبریل نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ وقت آپ سے پہلے انبیاء کا ہے اور آپ کی نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔“ جماعت کی اہمیت : ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے بہتر ہے۔ رات اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں حاضر ہوتے ہیں۔ حضرت ابو ھریرہ (رض) کہتے ہیں اگر چاہتے ہو تو قرآن مجیدکی آیت پڑھو (إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا ) “ مسائل ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورج ڈھلنے سے اندھیرے تک نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبح کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ ٣۔ صبح کا وقت فرشتوں کی حضوری کا وقت ہے۔ تفسیر بالقرآن نماز کے اوقات قرآن مجید کی روشنی میں : ١۔ نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لیکر رات تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھا کریں۔ (بنی اسرائیل : ٧٨) ٢۔ دن کے دونوں سروں (یعنی صبح شام کے اوقات میں) اور رات کی ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ (ہود : ١١٤) ٣۔ اللہ کی تسبیح صبح شام بیان کرو آسمان و زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو۔ (الروم : ١٧۔ ١٨) ٤۔ سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اطراف میں تسبیح وتحمید بیان کریں۔ (طٰہٰ: ١٣٠) ٥۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اللہ کی تسبیح بیان کریں رات کے کچھ اوقات میں اور نماز کے بعد بھی۔ (ق : ٣٩۔ ٤٠)