سورة الإسراء - آیت 66

رَّبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تمھارا رب وہی ہے جو تمھارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے، تاکہ تم اس کا کچھ نہ کچھ فضل تلاش کرو۔ یقیناً وہ ہمیشہ سے تم پر بے حد مہربان ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : (آیت 66 سے 67) ربط کلام : جو ذات اپنے بندوں کو شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتی ہے وہی تمہارا رب ہے جو تمہیں سمندر کی طغیانیوں سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دیتا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بے شک وہ تم پر بڑا مہر بان ہے۔ جب تمہیں سمندر میں کوئی پریشانی آتی ہے تو جنہیں تم مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو۔ وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اپنے رب سے انحراف کرتے ہو وجہ یہ کہ انسان اپنے رب کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ سمندر کے سینے پر چلنے والی کشتیوں اور بڑے بڑے جہازوں کی طرف توجہ کی جائے تو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو پانی اپنے اوپر ایک سوئی کو برداشت نہیں کرتا۔ اسی پانی کی لہریں کشتیوں اور جہازوں کو ساحل مراد تک پہنچانے میں خدّام کا کام دیتی ہیں۔ کشتیاں اور بحری جہاز ٹنوں کے حساب سے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں‘ اور نقل وحمل کا یہ سب سے بڑا اور مفید ترین ذریعہ ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے دنیا کی سب سے بڑی تجارت بحری راستوں کے ذریعے ہی ہورہی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہاں مشرک کی عادت بیان کی گئی ہے کہ وہ صرف انتہائی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے لیکن جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کاسبب یہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ اے پیغمبر (ﷺ) ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ۔ مشرک کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدر کرنی چاہیے تھی اس طرح نہیں کی۔ قیامت کے دن ساتوں زمینیں اور آسمان اللہ کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اللہ لوگوں کے شرک کرنے سے پاک اور عالی مرتبت ہے۔ (الزمر :67) جہاں تک مشرکین مکہ کے عقیدہ کا تعلق ہے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید بار با رگواہی دیتا ہے کہ وہ انتہائی مشکل کے وقت صرف ایک اللہ کو پکارا کرتے۔ جب انہیں مشکل سے نجات حاصل ہوتی تو پھر وہ اپنے بتوں اور دوسروں کے طفیل حرمت اور واسطے سے دعا کرتے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے۔ افسوس آج بے شمار کلمہ پڑھنے والے حضرات انتہائی مشکل کے وقت بھی صرف اللہ سے براہ راست مانگنے کی بجائے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی حرمت، طفیل، صدقہ اور وسیلہ سے مانگتے ہیں حالانکہ یہی وہ شرک کی عالمگیر قسم ہے جس سے انبیاء کرام لوگوں کو منع کرتے رہے ہیں۔ مسائل: 1۔ اللہ ہی سمندروں میں کشتیوں کو چلانے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ رحم فرمانے والا ہے۔ 3۔ مشرک مشکل میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے۔ 4۔ انسان اپنے رب کانا شکرا ہے۔ 5۔ نجات ملنے کے بعد مشرک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے اعراض کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن: مشرک انتہائی مشکل کے وقت ایک اللہ کو پکارتا ہے : 1۔ جب دریا میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اللہ کے سواسب کو بھول جاتے ہو۔ (بنی اسرائیل :67) 2۔ انہوں نے خیال کیا کہ وہ گھیرے میں آگئے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (یونس :22) 3۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت :65) 4۔ جب انہیں موجیں سائبان کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ (لقمان :32) 5۔ وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں خالصتاً اسی کو پکارو۔ (المومن :65) 6۔ انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو۔ (البینۃ:5)