سورة الإسراء - آیت 21

انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

دیکھ ہم نے ان کے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دی ہے اور یقیناً آخرت درجوں میں بہت بڑی اور فضیلت دینے میں کہیں بڑی ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے ہاں سب سے زیادہ مرتبے والے انبیاء ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ کی عطاؤں کے سب سے بڑھ کر حق دار ہیں۔ جنہیں دنیا میں بھی عظمت وفضیلت سے نوازا گیا۔ یہی اصول درجہ بدرجہ عام لوگوں میں کارفرما ہے۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے درمیان مراتب کا تفاوت سمجھنے کے لیے طلبہ کی ایک کلاس کو سامنے رکھیں۔ استاد کی نظر میں تمام طلبہ عزیز ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اس کے باوجود پوری کلاس میں مجموعی طور پر ایک ہی طالب علم قابلیت اور لیاقت کے اعتبار سے سب سے آگے ہوتا ہے۔ جب کہ جزوی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے کئی طلبہ کو ایک دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے مجموعی طور پر سرفہرست آنے والے طالب علم سے دوسرا طالب علم سائنس کے مضمون میں اس سے زیادہ نمبر حاصل کرتا ہو۔ اور یہی کیفیت دوسرے طالب علم کی کسی دوسرے مضمون میں ہو سکتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر تو ایک فسٹ پوزیشن حاصل کرے گا۔ انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت و عظمت دینے کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ حالات اور اقوام کے مزاج کے پیش نظر ایک نبی کو ایسے معجزات دیے گئے جو اس کے بعد آنے والے نبی کے دور اور مزاج کے لیے ضروری نہیں تھے۔ مثال کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں جادو کا علم اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ دنیا کے قابل ترین جادوگر شکست ماننے پر مجبور ہوئے۔ ان کے بعد ہر دور کے مطابق انبیاء معجزات کے ساتھ مبعوث کیے گئے یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ ان کے سامنے ارسطو اور افلاطون کی میڈیکل سائنس ماند پڑگئی۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَاءِ کَمَثَلِ قَصْرٍ اُحْسِنَ بُنْیَانُہٗ تُرِکَ مِنْہُ مَوْضِعُ لَبِنَۃٍ فَطَافَ بِہِ النُّظَارُیَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْیَانِہٖ اِلَّا مَوْضِعَ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ فَکُنْتُ اَنَا سَدَدْتُّ مَوْضِعَ اللَّبِنَۃِ خُتِمَ بِیَ الْبُنْیَانُ وَخُتِمَ بِیَ الرُّسُلُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ ) [ رواہ البخاری : باب خاتم النبین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‘ میری مثال اور دوسرے نبیوں کی مثال نہایت ہی اعلیٰ تعمیر شدہ محل کی سی ہے‘ جس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی تھی۔ دیکھنے والے اس کے اردگرد گھومتے اور اس کے حسن کو دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ البتہ اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ چنانچہ میں نے اس اینٹ کے خلا کو پر کردیا۔ مجھ پر اس عمارت کی تکمیل ہوئی۔ رسولوں کا سلسلہ مجھ ہی پر ختم ہوا۔ دوسری روایت میں ہے‘ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیّن ہوں۔“ (عَنْ ابِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَناَ اَوْلَی النَّاس بعیْسٰی ابْنِِِ مَرْیَمَ فِیْ الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ الْاَنْبِیَاءُ اِخْوَۃٌ مِّنْ عَلَّاتٍ وَّاُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ وَّلَیْسَ بَیْنَنَانَبِیٌّ) [ رواہ البخاری : باب (وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں۔ سب انبیاء سوتیلے بھائی ہیں البتہ ان کی مائیں مختلف ہیں ان کا دین ایک ہے نیز ہم دونوں کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں۔“ عام انسانوں میں مراتب کا فرق : یہی اصول باقی انسانوں میں جاری ہے ایک باپ کی اولاد میں ظاہری اور جوہری لحاظ سے زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک بادشاہ ہے اور دوسرا گداگر، ایک نہایت خوبصورت ہے اور دوسرا مناسب صورت، ایک صاحب کردار ہے اور دوسرا بدکردار۔ علیٰ ھذا القیاس۔ (اَ لْرِ جَالُ قَوَّا مُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ)[ النساء : ٣٤]” مرد عورتوں پر حاکم ہیں“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرماتا ہے۔ ٢۔ آخرت نعمتوں اور فضیلت کے اعتبار سے بہت اعلیٰ ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) کے مراتب : ١۔ حضرت آدم کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ: ٣٠) ٢۔ حضرت ادریس کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : ٥٧) ٣۔ حضرت ابراہیم کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء : ١٢٥) ٤۔ حضرت یعقوب کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ (یوسف : ٨٣) ٥۔ حضرت یوسف کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف) ٦۔ حضرت داؤد کو اللہ نے قوت فیصلہ عطا فرمائی۔ (ص : ٢٠) ٧۔ حضرت سلیمان کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : ٣٥) ٨۔ حضرت موسیٰ کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ: ١٢۔ ١٣۔ ١٤) ٩۔ حضرت عیسیٰ کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (النساء : ١٧١) ١٠۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمۃ للعالمین وخاتم النبیّین بنایا۔ (الاحزاب : ١٠٧)