سورة البقرة - آیت 198

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو، پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اس کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمھیں ہدایت دی ہے اور بلاشبہ اس سے پہلے تم یقیناً گمراہوں سے تھے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حج کے مناسک کا بیان جاری ہے۔ اسلام کے ورود مسعود سے پہلے لوگوں نے حج جیسے باوقار اور عبادات کے مجموعہ کو ایک میلہ اور تجارتی منڈی میں تبدیل کردیا تھا۔ لیکن جب یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کی سوچ کے زاویے یکسر تبدیل ہوگئے۔ صحابہ کرام (رض) نے سب کچھ اپنے رب کی رضا کے لیے قربان کردیا تھا۔ لہٰذا اب وہ حج کی ادائیگی کے دوران تجارت کرنے کے بارے میں کس طرح سوچ سکتے تھے؟ وہ یہاں تک محتاط ہوئے کہ ایک مزدوری کرنے والا صحابی حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پہلے سے یہ پیشہ ہے کہ ہم اونٹوں کے ذریعے سواری اور باربرداری کا کام کرتے ہیں کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لیے کرایہ پر لے جاتے ہیں ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں کیا ہمارا حج ہوگا؟ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اور اس نے آپ سے یہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کررہے ہو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس وقت کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ) اس وقت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا کہ ہاں تمہارا حج صحیح ہے۔ [ معارف القرآن] اسی طرح ہی حج سے فراغت کے بعد آپس میں لین دین اور تجارت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ بلکہ رزق حلال کا حصول اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ جسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ جب تم عرفات سے مشعر حرام کی طرف پلٹو۔ تو تمہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی توفیق اور رہنمائی سے تم اس کے گھر کے مہمان بنے اور ہدایت پائے اس رہنمائی سے پہلے تم گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ لہٰذا رب کی راہنمائی کے مطابق اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ یاد رہے کہ مشعر حرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی ہے جسے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا گیا ہے۔ مزدلفہ میں قیام کا طریقہ عرفات میں غروب آفتاب کے فوراً بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہونے کا حکم ہے۔ اب بے خانماں قافلہ رات کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتا ہوا مزدلفہ کی سنگلاخ زمین پر آن پہنچا ہے۔ جسم تھکن سے چور، طبیعت نڈھال، نیند کا غلبہ اور آرام کی حاجت کے باوجود لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تاکہ نماز مغرب وعشاء کی نماز ادا کرتے ہوئے اللہ کے حضور سرافگندگی کا اظہار کیا جائے۔ اس کے بعد آرام اور قیام کی ضرورت تھی جس بنا پر نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت پر شفقت ومہربانی کرتے ہوئے نہ خود اس رات تہجد پڑھی اور نہ ہی لوگوں کو تلقین فرمائی تاکہ سفر کی صعوبتوں اور تھکاوٹوں کی بنا پر لوگوں کو آرام کا موقع میسر آجائے۔ اور ١٠ ذوالحجہ کے لیے تازہ دم ہوجائیں کیونکہ ١٠ ذوالحجہ کا دن مناسک حج کے اعتبار سے بہت مشکل ترین دن ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (رض) یَقُوْلُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَیْلَۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فِیْ ضَعْفَۃِ أَھْلِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب من قدم ضعفۃ أھلہ بلیل الخ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ کی رات اپنے گھروالوں کے ساتھ پہلے روانہ کردیا تھا۔“ (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَعَلَیْہِ السَّکِیْنَۃُ وَأَمَرَھُمْ أَنْ یَرْمُوْا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِیْ وَادِیْ مُحَسَّرٍ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب المناسک، باب التعجیل من جمع] ” حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ سے واپس پلٹے تو آپ پر سکینت طاری تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کو حکم دیا کہ چنے کے برابر کنکریاں ماریں اور آپ وادی محسّر سے تیزی کے ساتھ گزرے۔“ کیونکہ یہاں ابرہہ کے لشکر کو ابابیل کے ذریعے تہس نہس کردیا گیا تھا۔ جو یمن کا حکمران تھا اور اس نے بیت اللہ کے مقابلے میں ایک گھر تعمیر کیا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ بیت اللہ کے بجائے اس کے بنائے ہوئے گھر کا طواف اور زیارت کیا کریں۔ جب لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اس نے حسد میں آکر بیت اللہ کو شہید کرنے کے لیے لشکر کشی کی جب لشکر ہاتھیوں پر سوار مزدلفہ کے قریب وادی محسّر میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے جھنڈ بھیج کر انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا اور یہ پرندے اپنی چونچ اور پروں میں کنکریاں اٹھا اٹھا کر ان کے اوپر پھینکتے تھے جس کا تذکرہ سورۃ الفیل میں کیا گیا ہے۔ مسائل ١۔ حج میں لین دین اور تجارت کی جا سکتی ہے۔ ٢۔ مشعرالحرام مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔ ٣۔ مزدلفہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر آدمی گمراہ ہوتا ہے۔