سورة النحل - آیت 78

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکرین کو قیامت کا منظر بتلانے کے بعد ان کی پیدائش کا منظر بتلایا ہے۔ قیامت کے منکر سب سے بڑی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں کس طرح اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں۔ کہ انسان کے الفاظ اور اس کا کردار ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے اس لیے انسان کا دوبارہ زندہ ہونا اور اس کے اعمال کا محاسبہ کرنا نہ ممکنات میں سے ہے۔ موت کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو تمہاری ماؤں کے بطنوں سے تمہیں نکالتا ہے۔ اس حالت میں کہ اس سے پہلے تمہارا وجود نہ تھا۔ اسی نے تمہاری آنکھیں، کان، اور دل بنائے۔ تاکہ تم اس کی ذات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقام اس کی ماں کا رحم رکھا ہے۔ جو ازدوجی زندگی سے پہلے بالکل خالی ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کا فیصلہ فرماتا ہے۔ تو اس کے ماں باپ کے مادہ منویہ سے جرثومے اس کی ماں کے کے رحم میں ملاپ حاصل کرتے ہیں۔ جس سے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ جس سے انسان بے خبر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پیدائش کے بعد بھی ایک مدت تک اسے اپنے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے دو آنکھوں، دو کانوں اور ایک دل کے ساتھ پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ اعضاء انسان کی پیدائش کے وقت اس قدر نازک اور اپنے گردو پیش کے ماحول سے بے خبر ہوتے ہیں کہ اسے یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے جنم دینے والی مامتا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ اسے القاء کرتا ہے جس بنا پر ہر نومولود بے شک جانور کا بچہ کیوں نہ ہو وہ اپنی ماں کی چھاتی کی طرف لپکتا ہے۔ جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے اس کی سماعت، بصارت اور سوچ و فکر کی صلاحیتیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ لیکن افسوس بڑا ہو کر وہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا اور دینوی نفع و نقصان پر غور و خوض کرتا ہے۔ اس کے باوجود اپنے خالق حقیقی کو بھول جاتا ہے اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ یہ پرلے درجے کا کفر اور اللہ تعالیٰ کی نا شکری ہے۔ حالانکہ انسان کو غیروں کی بجائے اپنے خالق اور منعم حقیقی کو پہچاننا اور اس کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ یہاں انسان کی پیدائش کو اس ماں کی طرف منسوب کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق ماں کے رحم میں ہوتی ہے۔ اس لیے باپ کی بجائے ماں کا ذکر ہوا ہے۔ اسی بناء پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماں کے حقوق والد کی نسبت زیادہ بیان فرمائے ہیں۔ (عَنْ اأبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللّٰہَ) [ رواہ احمد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا۔“ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کا مقصدیہ ہے کہ جو اپنے جیسے انسانوں کے چھوٹے چھوٹے احسانات کا شکریہ نہیں ادا کرتا حالانکہ اسے ان احسانات کا شکر ادا کرنا آسان ہے وہ خالق کائنات کے پہاڑوں جیسے اور ان گنت احسانات کا شکریہ کس طرح ادا کرسکتا ہے۔ شکر کے مقابلے میں ناشکری کو شریعت کی زبان میں تمام نا فرمانیوں اور بغاوتوں کا پیش خیمہ تصور کیا ہے۔ (لإَِ نْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَءِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدُ) [ ابراہیم۔ ٧] ” اگر تم شکریہ ادا کروگے تو تمہیں ضرور مزید عنایت کیا جائے گا اگر ناشکری کا رویہ اختیار کروگے تو پھر میرا عذاب بہت سخت ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ماں کے پیٹ سے نکالا اور اسے کچھ خبر نہ تھی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سماعت، بصارت اور دل بنایا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن شکر کی اہمیت اور اس کے فوائد : ١۔ اللہ نے تمہارے لیے سماعت، بصارت اور دل بنایا تاکہ تم شکر کرو۔ (النحل : ٧٨) ٢۔ اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تمہیں زیادہ دے گا۔ (ابراہیم : ٧) ٣۔ اگر تم اللہ کا شکر کرو تو وہ تم سے خوش ہوگا۔ (الزمر : ٧) ٤۔ اگر تم اللہ کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ تو تمہیں عذاب کرنے کا اسے کیا فائدہ؟ (النساء : ١٤٧) ٥۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔ (آل عمران : ١٤٤) ٦۔ اللہ نے کفر اور شرک کا راستہ واضح فرمادیا ہے۔ (الدھر : ٣)