سورة البقرة - آیت 186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : رمضان کی راتوں اور روزہ کی حالت میں دعا جلد قبول اور اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے دعا سے متعلق سوال کا جواب دینا یہاں مناسب سمجھا گیا تاکہ مومن دل کھول کر اپنے رب سے مانگیں۔ دعا کا معنٰی ومفہوم : دعا عبادات کا خلاصہ، انسانی حاجات اور جذبات کا مرقّع، بندے اور اس کے رب کے درمیان لطیف مگر مضبوط واسطہ، اللہ تعالیٰ کے مزید انعامات کا حصول اور نقصانات سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ اس سے ضمیر کا بوجھ ہلکا اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے دعا مکمل یکسوئی، خلوص نیت اور انتہائی توجہ، اصرار اور تکرار کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ارض و سماء کے مالک کی خوشی اور اس کا حکم ہے کہ اس سے براہ راست مانگا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے نہ مانگنا تکبر ہے۔ فوت شدگان کے واسطے، حرمت، طفیل اور وسیلے سے دعا کرنا شرک ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کے مقصدو مفہوم کو نہایت ہی مختصر مگر جامع کلمات میں بیان فرمایا ہے : ( اَلدُّعَاءُ ہُوَ الْْعِبَادَۃُ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلوۃ، باب الدعاء] ” دعا عبادت ہے۔“ دعا بمعنٰی عبادت : تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے بے پروائی کرتے ہیں انہیں ذلیل وخوار کرکے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔[ المؤمن : ٦٠] دعا بمعنٰی مدد طلب کرنا : اللہ کے سوا اپنے مدد گاروں سے مدد مانگواگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔[ البقرۃ: ٢٣] دعا بمعنٰی پکار : اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکا رو جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔ [ یونس : ١٠٦] دعا کی اہمیت : (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رض) عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَنْ یَّنْفَعَ حَذْرٌ مِنْ قَدْرٍ وَلٰکِنَّ الدُّعَاءَ ےَنْفَعُ مِمَّا نُزِّلَ وَمِمَّا لَمْ ےُنْزَلْ فَعَلَےْکُمْ بالدُّعَاءِ عِبَاد اللّٰہِ) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث معاذ بن جبل] ” حضرت معاذ بن جبل (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا کوئی بھی احتیاط اور پرہیز تقدیر سے نہیں بچا سکتی، لیکن دعا نازل شدہ اور آئندہ نازل ہونے والے مصائب وتکالیف سے فائدہ پہنچاتی ہے۔ پس اے بندگان خدا دعا ضرور کیا کرو۔“ دعا کے آداب درود، توبہ، استغفار : اخلاقیات کے حوالے سے اس بات کو کبھی بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا کہ کمزور آدمی اور حاجت مند کسی بڑے سے سوال کرے تو وہ آداب واکرام کو بالائے طاق رکھ کر سوال پر سوال ڈالتا چلا جائے۔ اس انداز سے نہ صرف مانگنے والا محروم رہ سکتا ہے بلکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دینے والا اس طرح مانگنے پر ناراض ہوجائے۔ لہٰذا جب رب کی بارگاہ میں دست سوال دراز کیا جائے تو پہلے حمد وستائش اور اس کی عنایات کا اعتراف واقرار کیا جائے۔ اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اطہر پر درود پڑھا جائے جو بذات خود بہترین دعا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ ” جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ [ رواہ مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب الصلٰوۃ علی النبی] آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب (رض) کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر تو اپنی دعا میں تمام وقت درود پڑھنے پر صرف کرے تو تیرے سارے دکھوں کے لیے کافی اور گناہوں کی بخشش کا باعث ہوگا۔[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب منہ] درود کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا احترام ومقام اور انسانیت کا شرف یہ ہے کہ کچھ مانگنے سے پہلے اس کے حضور اپنے گناہوں کی معافی اور بخشش طلب کی جائے۔ عاجزی، درماندگی : (اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً) [ الاعراف : ٥٥] ” اپنے رب کو عاجزی اور خوف کے ساتھ پکارو۔“ دعا کے آداب میں شکر، حمد، درود اور توبہ و استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا اور فقیرکا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری اور در ما ندگی کے ساتھ اس کے سامنے دست سوال دراز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو انکساری اس قدر پسند ہے کہ جب انسان پریشانیوں کے ہجوم، مسائل کے گرداب اور مصائب کے بھنور میں پھنس جائے اعزہ واقرباء اور رفقاء واحباب منہ پھیر جائیں، حالات کے تھپیڑوں نے زمین کی پستیوں پر دے مارا ہو، تمام وابستگیاں ختم اور ہر قسم کی امیدیں دم توڑ گئی ہوں‘ نہ اٹھنے کی ہمت ہو نہ بیٹھنے کی سکت اور آدمی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہو تو اس وقت یہ اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر التجا کرے کہ اے اللہ! میں نے اپنے گلشن حیات کو اپنی خطاؤں اور گناہوں کے جھکڑوں، غلطیوں اور جرائم کی آندھیوں سے برباد کرلیا ہے۔ میری وادئ حیات کو تیرے بغیر کوئی سیراب نہیں کرسکتا۔ مجھے تیرے ہی در کی امید اور تیری ہی رحمتوں کا سہار ا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سر سبز وشاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے حیات نو سے ہمکنار کر دے۔ جب یہ کہتے ہوئے اس کا دل موم اور آنکھیں پر نم ہوجاتی ہیں۔ تو اسی لمحے رحمت خداوندی اس کی روح کو تھپکیاں اور دل کو تسلیاں دیتے ہوئے ان الفاظ میں اسے حیات نو کی امید دلا رہی ہوتی ہے۔ (قُلْ ےَا عِبَادِیَ الَّذِےْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِےْعًا إِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِےْمُ) [ الزمر : ٥٣] ” اے نبی! کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے‘ وہ غفور الرحیم ہے۔“ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں : (رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرٰی کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَےَصِےْرُ کَالْمَےِّتِ فِیْ ےَدِ الْغُسَّالِ) [ حجۃ اللّٰہ] ” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت وعظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس میت کی طرح سمجھے جو نہلانے والے کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔“ ہاتھ آگے بڑھائیے! انسان کی عزت وشرف اور غیرت و حمیّت کا تحفظ کرتے ہوئے دین کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔ مگر بارگاہ ایزدی میں ہاتھ پھیلانے کا حکم ہی نہیں یہ تو انسانیت کا شرف ہونے کے ساتھ دعا کے آداب میں سے ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے جب دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے ہاتھ خالی لوٹاتے ہوئے حیا محسوس کرتا ہے۔ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ رَبَّکُمْ حَیِیٌّ کَرِےْمٌ ےَسْتَحْیِیْ مِنْ عَبْدِہٖ إِذَارَفَعَ ےَدَےْہِ اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْرًا) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب الدعاء] ” حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا رب نہایت ہی مہربان اور بڑا ہی حیا والا ہے۔ بندہ جب اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔“ یقین کے ساتھ مانگیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا کرتے تھے دعا مانگنے والے کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور یقین ہونا چاہیے کہ میری دعا اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ کیونکہ آدمی جس طرح اللہ کے بارے میں گمان کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک فرمائے گا۔ لہٰذا دعا کرتے ہوئے یقین محکم ہونا چاہیے کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی۔ ہر دعا قبول ہونے کی گارنٹی 1۔ دعا کا فی الفور قبول ہوجانا۔ 2۔ زندگی کے کسی حصّہ میں مستجاب ہونا۔ 3۔ مقصود حاصل ہونے کے بجائے اس کے بدلے میں کسی ناگہانی مصیبت کا ٹل جانا۔ 4۔ زندگی میں دعا قبول نہیں ہوئی تو اس کا آخرت میں پورا پورا بدلہ چکا دیا جائے گا۔ رِفعتیں اور قربتیں اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کے عقیدے سے انسان یہ بات سمجھتا رہا ہے کہ جس طرح میرا اللہ تک پہنچنا مشکل ہے اس طرح میری فریاد بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے مجھے ایسے طریقے اور وسائل بروئے کار لانے چاہییں جس سے میری آواز خالق حق تک پہنچ سکے۔ ابتداءً ایسا ہی خیال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفقائے کرام کے دل میں پیدا ہوا وہ اس فکری الجھن کی وجہ سے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اے ذات اقدس! ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا رب ہم سے کتنی دوری اور مسافت پر جلوہ افروز ہے تاکہ ہم اپنی آواز کو اسی قدر بلند کرنے کی کوشش کریں۔ اس محدود سوچ اور فکری الجھن کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میں ان سے کتنا دور ہوں۔ اے نبی! آپ ان کو اطمینان اور یقین دلائیں کہ میں قدرت وسطوت اور اپنے فضل وکرم کے لحاظ سے ہر وقت ان کے ساتھ ہی ہوا کرتا ہوں۔ میری رفاقت اس قدر پکّی اور ان کے قریب ہے کہ میں انسان کی شہ رگ سے بھی قریب تر ہوں۔ یہاں تک کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے جذبات اور اس کے ذہن میں ابھرنے والے خیالات سے ہر لمحہ مجھے آگاہی حاصل رہتی ہے۔ (وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِےْب۔) [ البقرۃ: ١٨٦] ” جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو انہیں فرمائیے کہ میں ان کے بالکل قریب ہوں۔“ (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ إِلَےْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِےْدِ ) [ قٓ: ١٦] ” ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات تک کو ہم جانتے ہیں ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔“ (اِنَّہُ عَلِےْمٌم بِذَات الصُّدُوْرِ) [ الملک : ١٣] ” یقیناً وہ سینے کے رازوں کو جانتا ہے۔“ وسیلہ کی بحث المائدۃ آیت :35 میں آئے گی انشاء اللہ۔ نوٹ : مزید تفصیل میری کتاب ” انبیاء کا طریقۂ دعاء“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب اور اس کی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔ ٢۔ بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہوئے اس کا حکم ماننا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کا حکم ماننے سے رشدو ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ ٤۔ دعا بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قریب ترین واسطہ ہے۔ ٥۔ مواحد کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ تفسیربالقرآن دعا کا مفہوم قرآن مجید میں : ١۔ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے زمین میں سے نباتات پیدا فرمائے۔ (البقرۃ: ٦١) ٢۔ مساجد اللہ کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ (الجن : ١٨) ٣۔ اور ان کا آخری قول اللہ تعالیٰ کی حمدو تعریف ہوگی۔ (یونس : ١٠) ٤۔ مشرک دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ (البقرۃ: ٢٢١) ٥۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کرو جب وہ تم کو بلائیں۔ (الانفال : ٢٤) ٦۔ اگر تم کہتے ہو کہ آپ نے اس قرآن کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی ایسی دس سورتیں لے آؤ اور جن کو تم بلا سکتے ہو بلالو۔ (ہود : ١٣)