سورة النحل - آیت 9

وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ۚ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا) ہے اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو ضرور تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے سواری اور باربرداری کے جانور پیدا فرماکر انسان کے لیے راستے آسان کردیے ہیں۔ اسی طرح ہی اس نے انسان کے لیے صراط مستقیم کی نشان دہی فرما کر ہدایت تک پہنچنے کے لیے آسانی پیدا کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ بھی کرم فرمائی ہے کہ اس نے مادی وسائل کے ساتھ انسان کی روحانی خوراک اور راہنمائی کا بندوبست بھی فرمایا ہے۔ نزول آدم سے لے کرتا قیامت انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے انسان کی، روحانی غذا اور فکری راہنمائی کا بندوبست فرما دیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی عقل کے حوالے کردیتا تو اس کا صراط مستقیم کو پانا اور اس پر چلنا نہایت مشکل ہوجاتا۔ کیونکہ ہر انسان اپنی عقل اور سوچ کو حرف آخر سمجھ کر ایک دوسرے سے الگ الگ راستہ اختیار کرتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی اس کی عقل پر چھوڑنے کے بجائے اسے وحی کا پابند کیا اور اس کی رہنمائی کا کام اپنے ذمے لیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ صراط مستقیم بتلانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے جبکہ بے شمار ٹیڑھے راستے بھی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا۔ لیکن اس نے ہدایت کی طرف راہنمائی اور صراط مستقیم کی نشاندہی کرنے کے بعد انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ اپنی عقل و فکر اور آزادی کے ساتھ گمراہی اور صراط مستقیم میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرسکے۔ سیدھی راہ : (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیْلُ اللَّہِ ثُمَّ تَلاَ ہٰذِہِ الآیَۃَ (وَأَنَّ ہَذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہٖ ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب اتِّبَاعِ سُنَّۃِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ آپ نے ایک سیدھا خط کھینچا اور دو خط اس کی دائیں جانب اور دوبائیں جانب۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درمیانی خط پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے اور یہ آیت تلاوت کی یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے علاوہ دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ سیدھی راہوں سے تمہیں جدا کردیں گے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی راہ ہدایت دکھاتا ہے۔ ٢۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سبھی کو ہدایت پر جمع کردیتا۔