سورة النحل - آیت 4

خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس نے انسان کو ایک قطرے سے پیدا کیا، پھر اچانک وہ کھلم کھلا جھگڑنے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیز ہے اسے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان کی تخلیق کے بیان سے پہلے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ گویا کہ مکیں سے پہلے مکاں کا بیان ہوا۔ اب انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اے انسان تجھے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا ہے اور زمین و آسمان کی تخلیق کی طرح تیری تخلیق میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو مرد اور عورت کے ملاپ کے ذریعے ان کے نطفہ سے بچہ کو پیدا کرتا ہے، اگر نہ چاہے تو مرد اور عورت کے زندگی بھر کے ملاپ سے کچھ بھی نہ پیدا ہو اور نہ انہیں کوئی دوسرا اولاد عطا کرسکتا ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود انسان نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو اس کا شریک بناتا ہے بلکہ شرک جیسے عظیم گناہ کے من گھڑت دلائل بھی دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کھلے الفاظ میں جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہر انسان کو اپنی اوقات سامنے رکھنی چاہیے کہ وہ کیا تھا اور کہاں پہنچا اور کس ذات کبریا کے ساتھ اوروں کو شریک بنا کر اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔ ( یٰس : ٧٧) (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ اِنَّ خَلْقَ اَحَدِکُمْ ےُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِےْنَ ےَوْمًا نُّطْفَۃً ثُمَّ ےَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَبْعَثُ اللّٰہُ اِلَےْہِ مَلَکًا بِاَرْبَعِ کَلِمَاتٍ فَےَکْتُبُ عَمَلَہٗ وَاَجَلَہٗ وَ رِزْقَہٗ وَشَقِیٌّ اَوْ سَعِےْدٌ ثُمَّ ےُنْفَخُ فِےْہِ الرُّوْحُ فَوَالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَےْرُہُ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ فَےَدْخُلُھَاوَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَےَدْخُلُھَا)[ رواہ البخاری : باب خَلْقِ آدَمَ صَلَوَات اللَّہِ عَلَیْہِ وَذُرِّیَّتِہٖ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے سچے اور مصدوق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں ہر شخص کی تخلیق اس کی والدہ کے رحم میں چالیس دن ایک نطفہ کی صورت میں ہوتی ہے پھر چالیس دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن گوشت کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتے ہیں وہ اس کا کردار، اس کی موت، اس کا رزق، اس کا بد یا نیک ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ اس اللہ کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے اور وہ ایسے کام کرتا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص عمر بھر دوزخیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی ہوتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ پھر وہ جنتیوں والے عمل کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہٗٓ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہٗٓ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ: ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہٗٓ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا) [ رواہ البخاری : باب قَوْلُہٗ قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیساکہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بے نیاز ہوں۔ نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری ہر برابری کرنے والا نہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا۔ ٢۔ انسان جھگڑالو ہے۔ تفسیر بالقرآن انسانی تخلیق کے مختلف مراحل : ١۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : ٤) ٢۔ اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : ٥٩) ٣۔ حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ (النساء : ١) ٤۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : ١٢) ٥۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٦۔ اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ (النساء : ١)