سورة الحجر - آیت 89

وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور کہہ دے بے شک میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اے نبی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مثال منصب اور علمی، روحانی، دولت سے نوازا ہے۔ لہٰذا آپ کو کسی اور طرف نظر التفات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم اور سورۃ فاتحہ جیسی نعمتیں عطا فرما کر اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا داروں کو جو کچھ دے رکھا ہے، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرنی اور نہ ہی ان کی باتوں پر غم زدہ ہونا چاہیے۔ ان کی باتوں اور دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنے مومن ساتھیوں سے محبت اور ان کی طرف توجہ رکھیں۔ دنیا پرستوں کو بس اتنا فرمائیں کہ میں حق کا انکار کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں ان کے انجام سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر اس طرح ہی عذاب نازل کرے گا۔ جس طرح ان سے پہلے ” مُقْتَسِمِیْنَ“ پر عذاب نازل کیا گیا تھا۔ مُقْتَسِمِیْنَ : کے اہل علم نے دو مفہوم بیان کیے ہیں۔ ١۔ جھوٹی قسمیں اٹھانے والے۔ ٢۔ مُقْتَسِمِیْنَ حصے بخرے کرنے والے اہل علم نے اس سے مراد یہود و نصاریٰ لیے گئے ہیں۔ جنہوں نے مذہبی منافرت اور ذاتی مفادات کی بنا پر تورات اور انجیل کے حصے بخرے کردیے تھے۔ اسی طرح آپ کے مخالفین نے اپنے ذہن میں قرآن مجید کے حصے بخرے کر رکھے ہیں۔ توحید کی آیات سے انھیں سخت نفرت تھی۔ باقی آیات کو قدرے برداشت سمجھتے تھے۔ آپ کے رب کی قسم ہم ان سے ضرور باز پرس کریں گے اور ان کے اعمال کا ضرور احتساب ہوگا۔ اس بات کو قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے کہ بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو تقسیم کردیا اور کئی گروہوں میں تقسیم ہوگئے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے وہ انہیں بتلائے گا جن کاموں میں وہ مصروف تھے۔ (الانعام : ١٥٩) دین میں تفریق پیدا کرنا اور قرآن مجید کو تقسیم کرنے کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ١۔ ذاتی یا گروہی مفاد یا عناد کی بنا پر قرآن مجید کے کچھ احکام کا انکار کرنا اور کچھ کو تسلیم کرلینا۔ جس طرح اہل مکہ اور یہود و نصاریٰ نے رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ اہل مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کرتے کہ فلاں فلاں آیات کو چھوڑ یا بدل دیا جائے۔ تب ہم قرآن مجید اور آپ کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ یہود و نصاریٰ ان آیات کو تسلیم کرتے تھے اور ہیں جن میں ان کے انبیاء کی تائید اور تورات و انجیل کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ جن آیات میں ان کی خود ساختہ شریعت کی مخالفت پائی جاتی ہے یہ لوگ ان آیات کا انکار کرتے ہیں۔ یہی صورت حال ملائکہ کے بارے میں تھی اور ہے۔ بالخصوص یہودی حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) کی ذات کے ساتھ یہ کہہ کر بغض رکھتے ہیں کہ جبرائیل نے ہمارے آباؤ اجداد پر عذاب نازل کیا تھا اس لیے وہ ہمارا دشمن ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ اس لیے نام نہاد علما اور مسلمان اس میں ترمیم و اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کے متعین مفہوم میں اپنے اپنے عقائد کی تائید میں قرآن مجید کی آیات پیش کر کے دین میں تفریق اور امت میں تقسیم کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ قرآن مجید میں کچھ آیات محکم ہیں جو قرآن مجید کے مفہوم کی بنیاد ہیں اور دوسری آیات متشابہات ہیں۔ جن کے ایک سے زائد مفہوم بھی ہو سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے۔ وہ بنیادی آیات اور اس کے مفہوم کو چھوڑ کر فتنہ برپا کرنے کے لیے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں۔ حالانکہ متشابہات کا صحیح مفہوم اللہ تعالیٰ اور پختہ علم والوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (آل عمران : ٧) دین کو تقسیم کرنا سنگین جرم ہے جس کی سنگینی کے پیش نظر فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ! تیرے رب کی قسم ان سے ان کے کردار کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ (رض) بِالْجَابِیَۃِ فَقَالَ یَآ أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ قُمْتُ فِیْکُمْ کَمَقَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیْنَا فَقَالَ أُوصِیْکُمْ بِأَصْحَابِیْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی یَحْلِفَ الرَّجُلُ وَلاَ یُسْتَحْلَفُ وَیَشْہَدَ الشَّاہِدُ وَلاَ یُسْتَشْہَدُ أَلاَ لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بامْرَأَۃٍ إِلاَّ کَانَ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ عَلَیْکُمْ بالْجَمَاعَۃِ وَإِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَہُوَ مِنَ الاِثْنَیْنِ أَبْعَدُ مَنْ أَرَادَ بِحَبُوْحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ مَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہٗ وَسَآءَ تْہُ سَیِّءَتُہٗ فَذَلِکَ الْمُؤْمِنُ) [ رواہ الترمذی : کتاب الفتن، باب مَا جَاءَ فِی لُزُومِ الْجَمَاعَۃِ] ” حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر (رض) نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیا کہا اے لوگو! میں تم میں کھڑا ہوا ہوں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہیں اپنے صحابہ کے متعلق وصیت کرتا ہوں پھر ان کے بعد والوں کے لیے اور پھر ان سے بعد آنے والوں کے لیے۔ اس کے بعدجھوٹ پھیل جائے گا یہاں تک کہ آدمی قسم اٹھائے گا حالانکہ اس سے قسم طلب نہیں کی جائے گی۔ آدمی گواہی دے گا حالانکہ گواہی اس سے طلب نہیں کی جائے گی۔ آگاہ رہو! نہیں خلوت اختیار کرتا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ مگر تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ جماعت کو لازم پکڑو اور فرقوں میں بٹنے سے بچو یقیناً شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دوسے دور ہوتا ہے جو جنت کی خوشبو چاہتا ہے وہ جماعت کے ساتھ منسلک رہے۔ جس کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری محسوس ہو وہ مومن ہے۔“ مسائل ١۔ کفار کے اموال کی طرف للچائی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مومنوں کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا۔ ٤۔ کچھ لوگ عملاً قرآن مجید کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ ٥۔ ہر کسی سے اس کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی اصلیّت اور اس کا انجام : ١۔ جو ہم نے کفار کو دے رکھا ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے۔ (الحجر : ٨٨) ٢۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل تماشا۔ (العنکبوت : ٦٤) ٣۔ دنیاکی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔ (آل عمران : ١٨٥) ٤۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا قلیل ہے۔ (التوبۃ : ٣٨) ٥۔ آپ فرما دیں کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے۔ (النساء : ٧٧)