سورة البقرة - آیت 172

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پہلے تمام لوگوں کو حلال کھانے کا حکم دیا تھا اب خاص کر مومنوں کو یہ کہہ کر حلال کھانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کا تقاضا ہے کہ حلال کھانے کا اہتمام کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام خور کی عبادت قبول نہیں کرتا۔ قبل ازیں بنی نوع انسان کو حلال وطیب کھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ حلال وطیب کا اہتمام نہ کرنے والا درحقیقت شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ حرام خوری کے ذریعے نہ صرف تمہیں تمہارے خالق سے دور رکھ کر تمہارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ وہ حرام کھانے اور کمانے کے ذرائع کے ذریعے بھی تمہارے درمیان نفرتیں اور عداوتیں پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ حرام ذرائع کے ساتھ دولت کمانے سے لامحالہ دوسرے کے مالی حقوق کو نقصان پہنچتا ہے جس سے لوگوں کے درمیان نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ان نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایمان داروں کو خصوصی خطاب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اے ایمان وایقان رکھنے والو! تمہیں پاک چیزیں کھانی چاہییں جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اِدھر ادھر ہاتھ مارنے کے بجائے انہی پر صابر و شاکر رہنے کی کوشش کرو۔ حلال پر صبر وشکر تب ہی کر پاؤ گے جب تم اپنے آپ کو ہماری غلامی اور عبادت کے لیے خالص کرلو گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ طیبات کھانے والوں کی ہی عبادت قبول کرتا ہے۔ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ کَالرَّاعِیْ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ أَنْ یَّرْتَعَ فِیْہِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہٗ أَلَا وَإِنَّ فِیالْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ أَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ) [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات] ” حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی مگر ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں۔ جن سے اکثر لوگ واقف نہیں۔ جو شخص ان مشکوک چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ رکھا۔ اور جو ان میں ملوث ہوگیا اس کی مثال ایسے چرواہے کی ہے جو اپنے جانوروں کو سرکاری چراگاہ کے قریب لے جاتا ہے۔ بہت ممکن ہے وہ جانور اس چراگاہ میں گھس جائیں۔ اچھی طرح سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم ہی خراب ہوجاتا ہے۔ سنو! وہ دل ہے۔“ حلال کے بارے میں احادیث (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکرِبَ الزُّبَیْدِیِّ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہٖ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ أَہْلِہٖ وَوَلَدِہٖ وَخاَدِمِہٖ فَہُوَ صَدَقَۃٌ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب التجارات، باب الحث علی المکاسب] ” حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی کمائی پاکیزہ نہیں آدمی اپنے نفس، اہل، اولاد اور خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔“ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ مِنْ أَطْیَبِ مَآ أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ وَوَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین اور پاکیزہ مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھاتا ہے اس کی اولادبھی اس کی کمائی ہے۔“ (لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ وَ دَمٌ نَبْتَا عَلٰی سُحْتٍ فَالنَّارُ اَولٰی بِہٖ) [ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ما ذکر فی فضل الصلٰوۃ] ” جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہوگا اس کے لیے دوزخ ہی مناسب ہے۔“ مسائل ١۔ صاحب ایمان لوگوں کو پاک روزی کھانا چاہیے۔ ٢۔ ہر دم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ حلال کمایا اور کھایاجائے۔ تفسیربالقرآن اکل حلال کی اہمیت : ١۔ ایمان داروں کو حلال کھانے کا حکم۔ (البقرۃ : ١٧٢) ٢۔ رسولوں کو اکل حلال کی تلقین۔ (المومنون : ٥١) ٣۔ تمام لوگوں کو اکل حلال کا حکم۔ (البقرۃ : ١٦٨)