سورة ابراھیم - آیت 12

وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں، حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے راستے دکھا دیے ہیں اور ہم ہر صورت اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے کا اعلان اور عقیدہ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی تعلیم دیتے تھیکہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں اپنے رب پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ اس عقیدہ اور تعلیم کا یہ اثر تھا کہ ان پر ایمان لانے والے حضرات بے پناہ مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود ظلم کرنے والوں کو کہتے کہ تم جو چاہو کرگزرو۔ ہمارا ایمان اور اعتماد ہے کہ ہمارا رب ہماری ضرور مدد فرمائے گا۔ ہم کیوں نہ اپنے رب پر توکل کریں جب کہ اس نے کفرو شرک اور بدعت ورسومات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اس لیے ہم صبر کریں گے اور وہ ایک دوسرے کو یہی بات کہتے کہ ہمیں اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ توکل کا معنی ٰہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا یہ مفہوم ہے کہ بندہ اپنے خالق و مالک پر کامل اعتماد و یقین کا اظہار کرتا ہے۔ جو اپنے رب پربھروسہ اور توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ لہٰذا تنگی اور آسانی‘ خوشی اور غمی میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے۔ یہ غموں کا تریاق اور مشکلات کا مداوا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم اور فائدہ : ١۔ توکل کرنے والوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (ابراہیم : ١٢) ٢۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (آل عمران : ١٥٩) ٣۔ اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدۃ : ٢٣) ٤۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣) ٤۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر سے نوازے گا۔ (العنکبوت : ٥٩) ٦۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : ٤٩)