سورة البقرة - آیت 169

إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ تو تمھیں برائی اور بے حیائی ہی کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ تم اللہ پر وہ بات کہو جو تم نہیں جانتے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حلال کے فوائد کے بعد حرام خوری کے نقصانات بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے حرام کھانے والا بالفعل شیطان کا حکم مانتا ہے۔ شیطان تو انسان کو بے حیائی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بے اعتقادی اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ حرام سے اجتناب نہ کرنا اور اپنی مرضی سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرلینا درحقیقت شیطان کی پیروی کرنے کے مترادف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ حرام کھانے پر آمادہ کرنے کے بعد شیطان کے لیے یہ کام نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے کہ وہ حرام خور کو برائی اور بے حیائی کی طرف مائل کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا آدمی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے ضمیر میں حیا محسوس نہیں کرتا۔ جب ضمیر حیا سے خالی ہوجائے تو ظلم کرنا، کاروبار میں ہیرا پھیری، اشیاء میں ملاوٹ‘ جھوٹ بول کرسودا بیچنا اور دوسرے کا حق مارنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کر گاہک کو دھوکہ دینے میں بھی یہ شخص باک محسوس نہیں کرتا۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بے حیائی کا نقصان ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے : (اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ الْاُؤلٰی إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِءْتَ) [ رواہ البخاری : کتاب الادب، باب إذا لم تستحی فاصنع ماشئت ] ” جو کچھ لوگوں نے پہلے انبیاء کی تعلیم سے پایا وہ یہ ہے کہ جب تجھ سے حیا ختم ہوجائے تو جو چاہے کر گزر۔“ حرام کی دولت جب کسی گھر میں داخل ہوتی ہے تو اس میں بے حیائی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ پردہ نشین عورتوں کے نقاب اترنا شروع ہوجاتے ہیں‘ بچیوں کے سروں سے دوپٹے سرکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، نوجوان اچھی روایات کو چھوڑ کر بری عادات کو فیشن کے طور اپنانے میں فخر اور شرافت کے ماحول میں گھٹن محسوس کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے پاس اگر مال کی فراوانی اور جوانی ہو تو وہ برائی اور بدکاری میں آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر ان لوگوں کو سمجھایاجائے تو کچھ لوگ حد سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہی سب کچھ کھاپی رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی حرام خوری کو اللہ رب العزّت کے ذمہ لگاتے ہیں۔ جس کو قرآن مجید نے سورۃ النحلکی آیت ٣٥ میں مشرکوں کا کردار بتاتے ہوئے یوں بیان فرمایا ہے کہ :” مشرک کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے آباء و اجداد اللہ کے علاوہ نہ کسی کی عبادت کرتے اور نہ کسی چیز کو حرام ہی قرار دیتے۔“ مسائل ١۔ شیطان انسان کو برائی، بے حیائی اور اللہ تعالیٰ کے متعلق غلط باتیں سکھلاتا ہے۔