سورة الرعد - آیت 4

وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پہاڑوں کے بعد نباتات کا بیان جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہونے کے ساتھ لوگوں کے لیے خوراک اور بے شمار فوائد کی حامل ہے۔ قرآن مجید نے پہلی دفعہ لوگوں کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ جس طرح جاندار چیزوں کے جوڑے ہیں ویسے ہی پودوں، درختوں اور پوری نباتات کے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پھولوں کے بھی جوڑے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک ہی قسم کا پھل ہونے کے باوجود کوئی میٹھا ہے، کوئی کڑوا، کوئی ترش اور کوئی پھیکا ہے۔ ایک ناقص ہے اور ایک اعلیٰ قسم کا اور نہایت قیمتی اور مفید ہے۔ پرانے زمانے کے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پودوں میں بھی جانوروں کی طرح نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ البتہ جدید نباتیات کا علم یہ بتاتا ہے کہ ہر پودے کی نر اور مادہ صنف ہوتی ہے۔ حتی کہ وہ پودے جو یک صنفی (Uni Sexual) ہوتے ہیں ان میں بھی نر اور مادہ کے امتیازی اجزا یکجا ہوتے ہیں۔ کھجورکے بارے میں تفصیلات کے لیے دیکھیں (فہم القرآن جلد ٢ صفحہ۔ ٤٠٠) نباتات میں جوڑے : (وَّأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجْنَا بِہٖٓ أَزْوَاجًا مِّنْ نَبَاتٍ شَتَّی )[ طٰہٰ: ٥٣] ” اور اوپر سے پانی برسایا اور پھر اس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار (جوڑا جوڑا) نکالی۔“ پھلوں میں جوڑے : (وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ)[ الرعد : ٣] ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں میں جوڑے پیدا کیے ہیں۔“ اعلیٰ درجہ کے پودوں (Superior Plants) میں نسل خیزی کی آخری پیداوار ان کے پھل (Fruits) ہوتے ہیں۔ پھل سے پہلے پھول کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں نر اور مادہ اعضا (Organs) یعنی اسٹیمنز (Stamens) اور اوویولز (Ovules) ہوتے ہیں جب کوئی زردانہ (Pollen) کسی پھول تک پہنچتا ہے، تبھی وہ پھول ” بار آور“ ہو کر پھل میں بدلنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پھل پک جاتا ہے اور (اس پودے کی) اگلی نسل کو جنم دینے والے بیج سے لیس ہو کر تیار ہوجاتا ہے۔ لہٰذا تمام پھل اس امر کا پتا دیتے ہیں کہ (پودوں میں بھی) نر اور مادہ اعضا ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے قرآن پاک بہت پہلے بیان فرما چکا ہے۔ پودوں کی بعض انواع غیر بار آور (Non Fertilized) پھولوں سے بھی پھل بن سکتے ہیں۔ (جنہیں مجموعی طور پر ” پارتھینو کارپک فروٹ“ کہا جاتا ہے) ان میں انناس، انجیر، نارنگی اور انگور وغیرہ کی بعض اقسام شامل ہیں۔ ان پودوں میں بھی بہت واضح صنفی خصوصیات (Sexual Characteristics) موجود ہوتی ہیں۔ ہر چیز کو جوڑوں میں بنایا گیا ہے : (وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ)[ الذ ریت : ٤٩] ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم اس سے سبق لو۔“ اس آیت مبارکہ میں ” ہر چیز“ کے جوڑوں کی شکل میں ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ انسانوں، جانوروں، پودوں اور پھلوں کے علاوہ بہت ممکن ہے کہ یہ آیت مبارکہ بجلی کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہو کہ جس میں ایٹم منفی بار والے الیکٹرونوں اور مثبت باروالے مرکزے پر مشتمل ہوتے ہی۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے جوڑے ہو سکتے ہیں۔ (سُبْحَانَ الَّذِیْ خَلَقَ الْأَزْوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِہِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ )[ یٰس : ٣٦] ” پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا ان اشیا میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔“ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز جوڑوں کی شکل میں پیدا کی گئی ہے، جن میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جنہیں آج کا انسان نہیں جانتا اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے کل میں انہیں دریافت کرلے۔ پودوں میں جنسی ملاپ : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں پھلوں کے بارے غور فرمائیں ایک کھجور کو ہی دیکھیں کس طرح نر و مادہ درختوں کے ذریعہ سے اس کی بے شمار قسمیں وجود میں آرہی ہیں اور اسی طرح دیگر فصلوں کی نئی نئی اقسام پیدا کی جاتیں ہیں۔ مسائل ١۔ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں۔ ٢۔ زمین میں انگوروں اور کھجوروں کے بہت سے درخت ہیں۔ ٣۔ ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والے درختوں کے پھل ذائقے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ٤۔ پھلوں میں ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ ٥۔ عقلمندوں کے لیے اللہ کی تخلیق میں نشان عبرت ہیں۔