سورة یوسف - آیت 109

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم ان بستیوں والوں میں سے وحی کیا کرتے تھے، تو کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو متقی بنے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین، نہ صرف اللہ کو ایک الٰہ نہیں ماننے تھے بلکہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ نبی انسان ہونے کی بجائے مافوق البشر ہستی ہونا چاہیے۔ جس کا جواب یہ دیا ہے کہ توحید اور بشریت کے بہانے نبوت کا انکار کرنے والوں کا انجام دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ توحید ورسالت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ اگر تم بھی انکار کی روش اختیار کیے رکھو گے تو تمہارا انجام بھی پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب انسان تھے۔ اور انہی علاقوں اور قوموں سے تعلق رکھتے تھے جن میں انہیں مبعوث کیا گیا تھا۔ کیا لوگ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ دنیوی مفادات کی خاطر انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ کیا لوگ نہیں سوچتے کہ انہیں دنیا کی بجائے آخرت کو ترجیح دینا چاہیے۔ یہ حقیقت قرآن مجید با رہا دفعہ بیان کرتا ہے کہ جتنے رسول دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سب کے سب نہ صرف انسان تھے بلکہ اپنی اپنی قوم سے تعلق رکھتے اور انہی کی زبان میں بات کرنے والے تھے۔ قرآن مجید عربی میں اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عربی النسل تھے۔ اہل مکہ اس بات پر ناز کرنے کی بجائے تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ عجیب معاملہ ہے کہ ہمارے جیسا انسان نبی بنا دیا گیا ہے اور وہ ہماری زبان میں بات کرتا ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس بات کے ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ نبی کے انسان ہونے اور اپنی قوم میں مبعوث ہونے کے کیا فوائد ہیں؟ اگر نبی قومی زبان کی بجائے کوئی اور زبان بولنے والا کسی دوسری جنس سے ہوتا تو نبی اور اس کی امت کو بات سمجھنے سمجھانے اور اس پر عمل کرنے میں جو مشکلات پیش آتیں ان کا یہ لوگ تصور بھی کرسکتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ آدمیوں میں سے جس کو چاہے نبی بنائے اور جس قوم اور بستی میں نبی مبعوث کیا جائے اس کے لیے یہ طرۂ امتیاز ہے جس کا کوئی قوم مقابلہ نہیں کرسکتی قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تمام نبی مرد تھے۔ جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی نہ صرف فرشتوں میں نہیں تھے بلکہ کسی عورت کو بھی نبوت کے مقام پر فائز نہیں کیا گیا۔ مگر لوگ اس حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے احسان عظیم پر غور نہیں کرتے۔ یہاں نبی کی بشریت کے دلائل دینے کی بجائے صرف اتنا فرمایا ہے کہ انہیں عقل سے کام لینا چاہیے کہ جن لوگوں نے نبی کی نبوت اور بشریت کو جھٹلایا ان کا دنیا میں کیا انجام ہوا ہے بلکہ دنیا کے ساتھ ان کی آخرت بھی برباد ہوگئی۔ (عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تَفْرَغُوْا مِنْ ہَمُوْمِ الدُّنِیَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَاِنَّہٗ مَنْ کَانَتِ الدُّنِیَا اَکْبَرُ ہَمَّہٗ اَفْشَی اللّٰہُ ضَیِّعَتَہٗ وَجَعْلَ فَقْرَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ہَمَّہٗ جَمَعَ اللّٰہُ لَہٗ اَمُوْرَہٗ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَمَا اَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِہٖ إِلَی اللّٰہِ إِلاَّ جَعَلَ اللّٰہُ قُلُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ تَفِدُّ إِلَیْہِ بالْوَدِّ وَالرَّحْمَۃِ وَکَان اللّٰہُ إِلَیْہِ بِکُلِّ خَیْرٍ اَسْرَعُ )[ معجم الاوسط] ” حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہاں تک ہو سکے تم دنیا کے غموں سے چھٹکارا حاصل کرلو جس نے دنیا کی فکر کو بڑ اجان لیا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا تنگ کردیں گے۔ محتاجی اس کی آنکھوں سے ٹپک رہی ہوگی۔ جس نے آخرت کو اپنے لیے بڑی فکر سمجھ لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سنوار دے گا۔ اس کے دل میں غنا پیدا کردے گا۔ جو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے متوجہ ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مومنوں کے دلوں میں محبت اور رحمت پید افرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی میں جلدی کرتا ہے۔“ مسائل ١۔ تمام رسول مردوں میں سے تھے۔ ٢۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ وحی فرماتے تھے۔ ٣۔ زمین میں سیر وسیاحت کر کے پہلے لوگوں کا انجام دیکھنا چاہیے۔ ٤۔ آخرت کا گھر تمام دنیا سے بہتر ہے۔ ٥۔ آخرت کا گھر متقین کے لیے ہے۔ تفسیر بالقرآن آخرت کا گھر کن لوگوں کے لیے ہے : ١۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (یوسف : ١٠٩ ) ٢۔ مومنوں کے لیے سلامتی والا گھر ہے اور اللہ ان کا دوست ہوگا۔ (الانعام : ١٢٧ ) ٣۔ متقین کے لیے آخرت کا گھربہتر ہے کیا لوگ عقل نہیں کرتے۔ (الاعراف : ١٦٩ ) ٤۔ صبر کرنے والوں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ (الرعد : ٢٤ )