سورة یوسف - آیت 101

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے میرے رب! بے شک تو نے مجھے حکومت سے حصہ دیا اور باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھایا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا یار ومددگار ہے، مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ وا لد محترم کے سامنے خواب کی تعبیر کا تذکرہ کرنے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے سامنیبھائیوں کا جھکنا دیکھ کر اکڑتے اور اس بات پر اتراتے نہیں بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں میرے رب یہ تیرے کرم کا نتیجہ ہے کہ تو نے مجھے بڑی بڑی مصیبتوں سے نکال کر دنیا کی عظیم مملکت کا حکمران بنایا۔ تو نے ہی مجھے خوابوں کی تعبیر اور معاملات کی فہم عطا فرمائی۔ اے میرے رب میں جو کچھ بھی ہوں تیرے کرم سے ہوں۔ تو میری دنیا اور آخرت کے کاموں کا والی اور مختار ہے۔ جو کچھ مجھے عطا ہوا بغیر مانگے عطا ہوا۔ میری تیرے حضور یہ فریاد ہے کہ مجھے مسلمان رکھنا، اسی حالت میں فوت کرنا اور صالحین کے ساتھ اٹھانا۔ اس دعا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ ختم ہوتا ہے۔ اسی عقیدہ اور عمل پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خاتمہ ہوا۔ اور یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی۔ یہی مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے اسی پر مسلمان کی موت آنی چاہیے۔ (الٰہی! مجھے بھی ایسی موت نصیب فرما۔ اٰمین یا ارحم الراحمین ) (وَوَصّٰی بِہَآ إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ أَمْ کُنْتُمْ شُہَدَاءَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ إِلَہَکَ وَإِلَہَ اٰبَاءِکَ إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِلَہًا وَّاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُوْنَ )[ البقرۃ: ١٣٢۔ ١٣٣] ” ابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو پسند کیا ہے لہٰذا تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے جب انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے انھوں نے کہا ہم تیرے الٰہ اور تیرے ابا ابراہیم، اسماعیل، اسحاق کے الٰہ کی عبادت کریں گے ان سبھی کا ایک ہی الٰہ ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔“ (یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ )[ اٰل عمران : ١٠٢] ” اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔“ مسائل ١۔ بادشاہت عطا کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ ٢۔ دنیا اور آخرت میں اللہ ہی کارساز ہے۔ ٣۔ آدمی کو اللہ تعالیٰ سے نیک لوگوں کا ساتھ طلب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اسلام ہی آخری دین ہے اور اسی پر قائم رہنے کا حکم ہے : ١۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیک لوگوں سے ملا دے۔ (یوسف : ١٠١) ٢۔ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ (آل عمران : ٨٥) ٣۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔ (آل عمران : ١٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لوگو! تمہیں اسلام پر ہی موت آنی چاہیے۔ (البقرۃ : ١٣٢) ٥۔ آج کے دن تمھارے لیے تمھارا دین مکمل ہوا۔ میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کی اور تمھارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔ (المائدۃ: ٣) ٦۔ کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : ٨٣) ٧۔ اپنے چہرے کو دین حنیف پر سیدھا کیے چلتے جاؤ۔ (الروم : ٣٠)