سورة یوسف - آیت 63

فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَىٰ أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تو جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انھوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہم سے ماپ روک لیا گیا ہے، سو تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج کہ ہم (غلے کا) ماپ لائیں اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) واپس اپنے گھر آکر اپنے والد سے حسب وعدہ اور ضرورت اپنے بھائی بنیامین کو آئندہ سفر میں ساتھ لے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔ برادران یوسف (علیہ السلام) گھر آکر اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر کے بادشاہ کی مہمان نوازی، حسن سلوک اور اس کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ابا جی ہمیں آئندہ غلہ دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں گے ہمیں غلہ نہیں مل سکتا۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے بھائی بنیا میں کو ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں ہم اس کی ضرور بضرور حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں ان کے وعدے اور باتوں سے واقف تھے۔ انھوں نے صرف یہی کہنا مناسب سمجھا کہ کیا تم پر میں اسی طرح اعتبار کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں اعتبار کیا تھا ؟ اس کے ساتھ ہی فرمایا اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ اس گفتگو کے بعد جب برادران یوسف نے اپنا سامان کھولا تو یہ دیکھ کر ان کے تعجب اور خوشی کی انتہا نہ رہی کہ غلہ کے ساتھ ان کی ادا کی ہوئی رقم بھی واپس کردی گئی ہے۔ کہنے لگے ! اباجان! اب تو ضرور آپ بنیامین کو ساتھ لے جانے میں اجازت مرحمت فرمائیں۔ آدمی کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہیے : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا کَرَبَہُٓ أَمْرٌ قَالَ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ) [ رواہ الترمذی : باب یا حیی یا قیوم] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی معاملے میں پریشانی ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے اے زندہ اور قائم رہنے والے اللہ! میں تیری رحمت کے صدقے تیری مدد طلب کرتاہوں۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی سب کی حفاظت کرنے والا ہے۔ ١۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : ٥٧) ٢۔ اللہ ہی سب کی حفاظت کرنے والاہے۔ (الانبیاء : ٨٢) ٣۔ ہر ایک کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔ (الرعد : ١١) ٤۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اللہ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : ٦١)