سورة البقرة - آیت 154

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کیے جائیں، مت کہو کہ مردے ہیں، بلکہ زندہ ہیں اور لیکن تم نہیں سمجھتے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : شہادت کے وقت صبر کرنا کیونکہ یہ فوت ہونے والے اور لواحقین کے لیے بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ شہداء کے مرتبہ ومقام، ان کے عظیم اور مقدس مشن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو عزت وتکریم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں نے میرے راستے میں اپنے جسم کے ٹکڑے کروائے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ان کو مردہ شمار کرنے کے بجائے زندہ وجاوید تصور کیا جائے۔ بظاہر ان کے گرامی قدر وجود دنیاۓ فانی سے دار جاودانی میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بے مثال غیرت ایمانی اور قربانی کی وجہ سے اپنی قوم اور معاشرے میں یاد رکھے جائیں گے۔ کیونکہ ان کی موت سے قوم میں زندگی کا نیا جذبہ، جوش اور ولولۂ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ جس سے یہ محاورہ زبان زد عام ہوا ” شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے“ یہ جوانمرد اپنی جانیں نچھاور کرکے قوم کی عزت، بہوبیٹیوں کی عفت، ملک کی حفاظت اور اسلام کی عظمت کے رکھوالے ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے جانفروشوں، فداکاروں اور جرأت وبہادری کی داستانیں رقم کرنے والوں کو غیرت خدا وندی گوارا نہیں کرتی کہ انہیں مردہ کے لفظ سے پکارا جائے۔ بلکہ ان کا نام اور کام نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ان کے نام اور کام کی ہر وقت زیارت کی جاسکتی ہے۔ شہدائے بدر و احد سے لے کر آج تک شہید ہونے والے خوش بختوں کے جب بھی نام لیے جاتے ہیں تو دل میں احترام ومقام تازہ ہونے کے ساتھ ان کی عظیم شہادت کی وجہ سے آدمی کا خون کھول اٹھتا ہے۔ مسلمان چشم تصور میں تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو رات کی تاریکی میں بستر پر لیٹے ہونے کے باوجود اس کا دل میدان کارزار میں پہنچنے کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔ یہی وہ سرمایۂ حیات ہے جس بنا پر انہیں مردہ کہنے کی بجائے شہید کے عظیم اور مقدس لقب سے ملقب فرمایا گیا ہے۔ جہاں تک دنیاوی زندگی کا معاملہ ہے وہ اس طرح ہی اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں جس طرح طبعی موت سے آدمی اس دنیا سے دار آخرت کی طرف رخت سفر باندھتا ہے۔ اسی وجہ سے شہداء کی بیوگان کو آگے نکاح کرنے کی اجازت اور ان کی وراثت اسلامی قانون وراثت کے تحت ہی تقسیم ہوا کرتی ہے۔ اس بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں خود ساختہ تصورات اور کسی قسم کی قیل وقال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جہاں تک عالم برزخ میں جسد خاکی کی بقا کا معاملہ ہے تو انبیائے عظام کے اجسام مطہرہ کے بارے میں گارنٹی موجود ہے‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشادِگرامی ہے : (إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّ مَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الصلوۃ، باب فصل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ]” یقینًا اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کردیا ہے۔“ شہداء کے جسد خاکی کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی مستقل ضابطہ موجود نہیں۔ البتہ جس کے لیے اللہ چاہے اس کے وجود کو سلامت رکھتا ہے۔ جس کی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود بعض لوگوں نے اپنے فرسودہ عقائد کو تقویت اور دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لیے ان کی حیات اخروی کو دنیا کی زندگانی سے مماثل کرنے کی بے معنی کوشش کی ہے۔ جن میں عصر حاضر کے ایک مفسر تفسیر مظہری کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں : قلت بل معیۃ غیر متکیفۃ یتضح علی العارفین۔ یعنی اس سنگت سے وہ خاص سنگت مراد ہے جس کی کیفیت بیان نہیں ہوسکتی۔ صرف عارف ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ (ضیاء القرآن) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہید کی زندگی کے بارے میں یوں فرمایا : (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِجَابِرٍ یَاجَابِرُ أَلَاأُبَشِّرُکَ قَالَ بَلٰی بَشِّرْنِیْ بَشَّرَکَ اللّٰہُ بالْخَیْرِ قَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَحْیَاأَبَاکَ فَأَقْعَدَہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ تَمَنَّ عَلَیَّ عَبْدِیْ مَاشِءْتَ أُعْطِکَہٗ فَقَالَ یَارَبِّ مَاعَبَدْتُّکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ أَتَمَنّٰیْ عَلَیْکَ أَنْ تَرُدَّنِیْ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقَاتِلُ مَعَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَرَّۃً أُخْرٰی فَقَالَ سَبَقَ مِنِّیْ إِنَّکَ إِلَیْھَا لَاتَرْجِعُ) [ المستدرک علی الصحیحین : ٣/٢٢٣] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتیہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جابر (رض) سے فرمایا جابر! کیا میں تجھے بشارت نہ دوں؟ انہوں نے عرض کی کیوں نہیں! اللہ آپ کو بہتری اور خیر کی بشارت دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے معلوم ہے کہ اللہ نے تمہارے والد کو زندہ کرکے اپنے سامنے بٹھاکر فرمایا کہ میرے بندے تو جو چاہتا ہے مجھ سے تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا میں تمنا کرتاہوں کہ آپ مجھے دنیا میں بھیج دیں تاکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر قتال کروں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں اللہ تعالیٰ نے جوابًا فرمایا : میرا فیصلہ ہوچکا ہے کہ تودنیا میں دوبارہ نہیں جائے گا۔“ مسائل ١۔ شہداء کو مردہ نہیں کہنا چاہیے۔ ٢۔ شہداء کی زندگی ہمارے علم سے باہر ہے۔ تفسیربالقرآن شہداء کا مقام وزندگی : ١۔ اللہ کے راستے میں شہید ہونے والے زندہ ہیں۔ (البقرۃ: ١٥٤) ٢۔ شہداء اللہ کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ (آل عمران : ١٦٩) ٣۔ شہداء اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی ہیں۔ (آل عمران : ١٧٠) ٤۔ شہداء اپنے لواحقین کو خوشخبری کا پیغام دیتے ہیں۔ (آل عمران : ١٧٠)