سورة ھود - آیت 118

وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقیناً سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا اصول اور اس کی مشیّت۔ اس سے پہلے آیت نمبر ١١٥ میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کی تلقین فرمائی کہ حوصلہ رکھیے اور صبر کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہاں دوسرے پیرائے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کے رب کا اصول اور اس کی مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کو جبراً ایک امت نہیں بنایا یعنی ہدایت پر اکٹھا نہیں کیا اسی اصول کے پیش نظر لوگ ہمیشہ سے حق والوں کے ساتھ اختلاف کرتے آئے ہیں اور تاقیام قیامت اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس فرد اور جماعت کے جس پر آپ کا رب رحم فرما دے۔ لوگوں کے اختلافات کی فطری وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آپ کے رب کا فرمان سچ ثابت ہوگا کہ وہ بے شمار باغی جنوں اور انسانوں کے ساتھ جہنم کو بھرے گا۔ قرآن مجید میں یہ اصول مختلف الفاظ میں کئی مرتبہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کے بارے میں کسی پر جبر نہیں کرتا۔ اس نے ہر انسان کو عقل و فکر اور ایک حد تک آزادی عنایت فرمائی کہ جس میں رہ کر ہر انسان کو کفرو شرک، ہدایت اور گمراہی کے درمیان فیصلہ کرنا ہے۔ یہ آزادی فکر اس لیے عنایت کی ہے کیونکہ اس نے انسان کو عقل و فکر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ کچھ انسان فطری طور پر گمراہ پیدا ہوتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ زندگی بھر گمراہی کا راستہ اختیار کیے رکھتے ہیں ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اللہ نے انسان کو فطری طور پر حق اور ہدایت پر پیدا فرمایا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک انسان میں طبیعت کے بعض پہلوؤں کے اعتبار سے منفی قوت زیادہ ہوتی ہے جو اس کے لیے بطور آزمائش ہوتی ہے۔ منفی قوت پر قابو پانے اور آزمائش میں سرخرو ہونے میں ہی کامیابی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و شعور کی قوت دینے کے ساتھ قرآن و سنت کی شکل میں مفصل ہدایت نامہ عطا فرمایا ہے تاکہ ہر انسان اس کے مطابق اپنی منفی قوتوں پر قابو پائے اور طبعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدایت کے راستے پر گامزن رہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ اَوْ ےُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِےْمَۃُ بَھِےْمَۃً جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِےْھَا مِنْ جَدْعَآءَ ثُمَّ ےَقُوْلُ ” فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَےْھَا لَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ“ ) [ رواہ البخاری : باب اذا اسلم الصبی فمات] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقتجنم دیتے ہیں۔ کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت تلاوت کی۔” اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور درست دین ہے۔“ مسائل ١۔ اختلاف کرنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی ہر بات پوری ہوتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جس پر رحمت فرماتا ہے وہ حق کے ساتھ اختلاف کرنے سے اجتناب برتتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ باغی جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھریں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت نہیں دیتا : ١۔ اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن لوگ ہمیشہ ہی اختلاف کرتے رہیں گے۔ (ھود : ١١٨) ٢۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع فرما دیتا پس آپ جاہلوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : ٣٥) ٣۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور ہدایت دیتا۔ (الانعام : ١٤٩) ٤۔ اگر تیرا رب چاہتا تو سارے کے سارے لوگ مومن ہوجاتے۔ (یونس : ٩٩) ٥۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ: ٢١٣)