سورة البقرة - آیت 146

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے کچھ لوگ یقیناً حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : یہاں معنوی ربط ہے کہ اہل کتاب جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو پہچانتے ہیں اسی طرح بیت اللہ کو قلبی طور پر قبلہ تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں تورات و انجیل میں آپ کی نبوت کے ثبوت ہیں وہاں بیت اللہ کے قبلہ ہونے کا ثبوت بھی موجود ہے۔ اظہارِ حق اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اطمینان اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے مزید فرمایا جا رہا ہے کہ اہل کتاب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور حیثیت کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں ذرّہ برابر شک نہیں کرتا، جب انہوں نے آپ کو اچھی طرح پہچان لیا ہے تو پھر آپ کی نبوت سے انحراف اور قبلہ کے انکار کا کیا معنیٰ ؟ لیکن اس کے باوجود کتمانِ حق کا جرم ہمیشہ سے ان میں سے ایک فریق کرتا آرہا ہے۔ لہٰذا قبلہ کی تبدیلی اور سلسلۂ وحی آپ کے رب کی طرف سے ہے اس لیے آپ کو رائی کے دانے کے برابر بھی اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ (عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ (رض) قَالَ قَالَ یَھُوْدِیٌّ لِصَاحِبِہِ اذْھَبْ بِنَآ إِلٰی ھٰذَا النَّبِیِّفَقَالَ صَاحِبُہٗ لَا تَقُلْ نَبِیٌّ إِنَّہٗ لَوْ سَمِعَکَ کَانَ لَہٗ أَرْبَعَۃُ أَعْیُنٍ فَأَتَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَسَاَلَاہُ عَنْ تِسْعِ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَقَالَ لَھُمْ لَا تُشْرِکُوْا باللّٰہِ شَیْءًا وَلَا تَسْرِقُوْا وَلَا تَزْنُوْا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوْابِبَرِیءٍ إِلٰی ذِیْ سُلْطَانٍ لِیَقْتُلَہٗ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَأْکُلُوا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصَنَۃً وَلَا تُوَلُّوا الْفِرَارَ یَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَیْکُمْ خَآصَّۃَ الْیَھُوْدَ أَنْ لَّاتَعْتَدُوْا فِی السَّبْتِ قَالَ فَقَبَّلُوْا یَدَہٗ وَرِجْلَہٗ فَقَالَا نَشْھَدُ أَنَّکَ نَبِیٌّ قَالَ فَمَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تَتَّبِعُوْنِیْ قَالُوْا إِنَّ دَاوٗدَ دَعَا رَبَّہٗ أَنْ لاَّ یَزَالَ فِیْ ذُرِّیَتِہٖ نَبِیٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إنْ تَبِعْنَاکَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْیَھُوْدُ) [ رواہ الترمذی : کتاب الإستئذان، باب ماجاء فی قبلۃ الید والرجل] ” حضرت صفوان بن عسال (رض) کہتے ہیں ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ مجھے اس نبی کے پاس لے چلو اس نے کہا تو اسے نبی نہ کہہ اس لیے کہ اگر اس نے سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی یعنی بہت خوش ہوگا۔ ان دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکرنو آیات بیّنات کے متعلق سوال کیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنانہ کرو اور قتل ناحق نہ کرو، کسی بے گناہ کو حاکم کے ہاں اسے قتل کرانے کے لیے نہ لے جاؤ، جادونہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو ” اور یہودیو! تم پر خصوصی طور پر لازم ہے کہ ہفتے کے دن زیادتی نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں دونوں نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میری اتباع کرنے سے کونسی چیز مانع ہے؟ انہوں نے جواب دیاحضرت داود (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ نبوت انہی کے خاندان میں رہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع کرلی تو یہودی ہمیں قتل کردیں گے۔“ حضرت صفیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میرے والد حیی بن اخطب اور چچا ابو یاسر صبح کے وقت رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ کر اسلام کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ حقیقتًا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی آخر الزماں ہیں۔ جب آپ سے گفتگو کرنے کے بعد مغرب کے وقت واپس آئے تو نہایت تھکے ماندے دکھائی دے رہے تھے۔ چچا ابو یاسر میرے والد سے پوچھتے ہیں :أَھُوَ ھُوَ ؟ ” کیا یہی وہ نبی ہے جس کا تذکرہ تورات وانجیل میں پایا جاتا ہے؟“ والد کہتے ہیں کیوں نہیں یہ وہی رسول ہے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں :أَتَعْرِفُہٗ وَتُثَبِّتُہٗ ؟ ” کیا واقعی تو اسے پہچانتا ہے؟“ تو انہوں نے کہا : ہاں میں اچھی طرح پہچانتاہوں۔ چچا ابویاسر کہتے ہیں : فَمَافِیْ نَفْسِکَ مِنْہُ ؟ ” پھر آپ کا کیا ارادہ ہے؟“ تو میرے والد جواب دیتے ہیں : عَدَاوَۃٌ وَاللّٰہِ مَابَقِیْتُ ” کہ اللہ کی قسم! جب تک زندہ ہوں مخالفت کرتا رہوں گا“۔ [ ابن ہشام : شہادۃ عن صفیۃ] یہی حالت اہل مکہ کی تھی کہ وہ اچھی طرح پہچان چکے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی ہی اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں لیکن اپنی انا اور باطل عقیدہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بدر کے معرکہ کے موقعہ پر ابو جہل سے کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا محمدنے زندگی میں ہم سے جھوٹ بولاہے؟ اس نے کہا : ہرگز نہیں اس شخص نے پھر کہا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح غلط بیانی کرسکتا ہے ؟ خصوصًا جب اس کی کنپٹیوں کے بال بھی سفید ہوچکے۔ اس پر ابوجہل نے کہا کہ دراصل ہمارے اور ان کے قبیلے کی آپس میں ہر معاملے میں مقابلہ بازی رہی ہے اس لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اس کی سربراہی قبول کرلیں۔ مسائل ١۔ یہود ونصارٰی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور رسالت کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں۔ ٢۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حق چھپالیتے ہیں۔ ٣۔ قرآن مجید اور بیت اللہ کے قبلہ ہونے پر شک نہیں کرنا چاہیے۔