سورة ھود - آیت 2

أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۚ إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بے شک میں تمھارے لیے اس کی طرف سے ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سورۃ یونس کے اختتام میں حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے سورۃ ہود کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے ہوا۔ پہلے کی طرح اس میں صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ کہ اے انسانو اور جنو! میں نے تمہیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الذاریات : ٥٦۔ ٥٨) انسان کو اس کی زندگی کا مقصد سمجھانے کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیائے عظام مبعوث کیے گئے۔ قرآن مجید ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ تمام کے تمام انبیاء اپنی دعوت کا آغاز اسی مقصد حیات سے کرتے تھے۔ آٹھویں پارے کے آخری پاؤ نکال کر دیکھیں کہ ہر رکوع کی ابتداء ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ ہم نے نوح، ہود، صالح، شعیب کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی فرمایا کہ لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں سورۃ الانبیاء آیت ٢٥ میں ارشادہوتا ہے کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے پہلے جتنے پیغمبر جلوہ گر کیے گئے۔ وہ لوگوں کو یہی بتلاتے اور سمجھاتے رہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے کہ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو زبان سے اقرار کرے اور اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے رہا ہو کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بے بس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے۔ دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ یہ میرا مال ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ اس عہد کو نمازی پانچ وقت تشہد میں زبان سے دہراتا ہے کیونکہ عبادت تین ہی طریقوں سے ہو سکتی ہے۔ (اَلتَّحَیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ) ” تمام قسم کی قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔“ (قُلْ إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ )[ الانعام : ١٦٢۔ ١٦٣] ” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز، قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں۔“ اس تصور کے ساتھ قرآن مجید نے عبادت کا وسیع تر تخیل پیش کیا ہے کہ آدمی منڈی یا بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا ترجمان بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفا داری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ عبادات میں سب سے پہلا درجہ نماز کا ہے۔ جسے اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشیر و نذیر بناکر بھیجا گیا تھا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت : ١۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (ہود : ٢) ٢۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور شیاطین کی عبادت نہ کرو۔ (المومنون : ٢٣) ٣۔ حضرت ہودنے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ اور غیر اللہ کی عبادت سے روکا۔ (الاعراف : ٦٥) ٤۔ حضرت صالح نے ایک اللہ کی عبادت کے لیے بلایا اور ماسوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کو شیطان کی عبادت قرار دیا۔ (الاعراف : ٧٣) ٥۔ حضرت شعیب نے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے منع کیا۔ (ہود : ٨٤) ٦۔ تمام امتوں کی طرف رسول بھیجے گئے اور سبھی نے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ (النمل : ٣٦)